وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی رومانیہ کے سفیر ڈین اسٹونیسکو سے ملاقات،تجارتی، دفاعی اور توانائی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 اگست2025ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ رومانیہ کی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع موجود ہیں،حکومت ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں مرحلہ وار کم کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے رومانیہ کے سفیر ڈین اسٹونیسکو سے ملاقات کے دوران کیا۔
وزارت تجارت کے مطابق اس موقع پر پاکستان اور رومانیہ کے درمیان تجارتی، دفاعی اور توانائی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ رومانیہ کے سفیر نے پاکستانی برآمدات کے لیے کنسٹانزا بندرگاہ استعمال کرنے کی تجویز پیش کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کنسٹانزا بندرگاہ تک رسائی برآمدی لاجسٹکس میں تنوع کا اہم قدم ہے۔ ملاقات کے دوران زرعی، گوشت، دواسازی، سرجیکل اور گرین انرجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق بھی کیا گیا۔(جاری ہے)
سفیر ڈین اسٹونیسکو نے رومانیہ کی جانب سے پاکستان کو شمسی اور ہوا سے بجلی بنانے کی ٹیکنالوجی دینے کی پیشکش کی اور پاکستانی صنعتی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے صنعتی شراکت داری میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ حکومت ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں مرحلہ وار کم کر رہی ہے، رومانیہ کی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع موجود ہیں۔ سفیر اسٹونیسکو نے پاکستانی آئی ٹی ماہرین کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ رومانیہ پاکستانی آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہے ۔ وفاقی وزیر نے انہیں بتایا کہ پاکستانی آئی ٹی ماہرین عالمی سطح پر معیاری خدمات دے رہے ہیں۔ ملاقار میں ٹیکنالوجی سیکٹر میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے ثقافتی سفارتکاری، کمیونٹی انضمام اور ویزہ سہولتوں میں بہتری پر زور دیا گیا۔ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس کے دوران باہمی تعلقات کو مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان رومانیہ کے کے لیے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔