سعودی عرب کا اسرائیلی وزیر کی مسجد الاقصیٰ میں اشتعال انگیزی پر شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
سعودی وزارت خارجہ نے اسرائیل کے شدت پسند وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر کے مسجد اقصیٰ کے اشتعال انگیز دورے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے والی کارروائی قرار دیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اسرائیلی قابض حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے خلاف مسلسل اشتعال انگیز اقدامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، یہ اقدامات خطے میں تنازع کو بڑھاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اشتعال انگیزیاں اور اسکول تباہ کرنے پر پاکستان کی شدید مذمت
اتوار کو اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر نے مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے کا دورہ کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے وہاں عبادت کی، حالانکہ طویل عرصے سے قائم حساس ’اسٹیٹس کو‘ کے تحت غیر مسلموں کو صرف دورے کی اجازت ہے، عبادت کی نہیں۔ اس انتظام کے تحت مسجد اقصیٰ کا انتظام اردن کے ایک مذہبی ادارے کے پاس ہے۔
سعودی عرب نے عالمی برادری سے مطالبہ دہرایا ہے کہ وہ اسرائیلی حکام کی ان سرگرمیوں کو روکے جو بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کرتی ہیں اور مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
اسی دوران اردن نے بھی بن گویر کے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور انسانیت کے ضوابط کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اردنی وزارت خارجہ کے ترجمان سفیر سفیان القضاہ نے ایک بیان میں کہاکہ اسرائیل کو مسجد اقصیٰ پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔ بن گویر کی مسلسل اشتعال انگیز دراندازی اور اسرائیلی پولیس کی جانب سے شدت پسند آبادکاروں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت دینا قابل مذمت ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ ان اقدامات کا مقصد مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو مجروح کرنا، اسے وقتی اور مکانی اعتبار سے تقسیم کرنا اور اس کی حرمت پامال کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر کی دراندازی کی شدید مذمت
اردنی ترجمان نے خبردار کیا کہ اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر اس قسم کی خلاف ورزیاں یروشلم اور مغربی کنارے میں مزید خطرناک حالات کو جنم دے سکتی ہیں اور یکطرفہ اسرائیلی اقدامات کو بڑھاوا دے سکتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیلی وزیر دورہ سعودی عرب سعودی وزارت خارجہ شدید مذمت مسجد اقصی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیر دورہ وی نیوز اسرائیلی وزیر بن گویر کی شدید اور اس
پڑھیں:
ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
رپورٹ میں ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے ایک ایسا پل، جسے اسرائیلی فوج نے تین بموں سے نشانہ بنایا تھا، صرف چند دنوں میں دوبارہ تعمیر کر دیا۔ اس عہدیدار کے مطابق اس پیش رفت نے اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو حیران کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر حیران ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیلی اور مغربی حکام کے حوالے سے، نیز سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے کی بنیاد پر، رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے متاثر ہونے والے اپنے بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ مختصر عرصے میں دوبارہ تعمیر کر لیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس پیش رفت نے بعض اسرائیلی حکام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تعمیرِ نو میں پہاڑوں کے اندر قائم میزائل اڈے، پل، بندرگاہیں اور صنعتی پیداواری تنصیبات شامل ہیں، اور اس کام کی رفتار اسرائیلی حکام کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ تیز رفتار بحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی وسیع فضائی مہم کے باوجود، جس میں جنگ کے عروج پر 20 ہزار سے زائد حملے کیے گئے اور اب بھی ایران کے ساحلی علاقوں میں جاری ہے، اپنی دفاعی اور صنعتی صلاحیت کو برقرار رکھنے اور بحال کرنے کی قابلِ ذکر استعداد رکھتا ہے۔
اخبار نے سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ کنگاور کے قریب مارچ میں ہونے والے فضائی حملوں میں ایک میزائل اڈے کی دو سرنگوں کے داخلی راستے اور وہاں جانے والی سڑک تباہ کر دی گئی تھی، تاہم چند ہی ہفتوں بعد نئی تصاویر میں اس مقام پر نئی پختہ سڑک اور تازہ کھودی گئی سرنگوں کے داخلی راستے دکھائی دیے۔رپورٹ میں ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے ایک ایسا پل، جسے اسرائیلی فوج نے تین بموں سے نشانہ بنایا تھا، صرف چند دنوں میں دوبارہ تعمیر کر دیا۔ اس عہدیدار کے مطابق اس پیش رفت نے اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو حیران کر دیا اور انہیں اپنے حملوں کی مؤثریت پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔ رپورٹ کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ جولائی کے اوائل کی سیٹلائٹ تصاویر سے بندر انزلی میں واقع ایک جہاز سازی کے کارخانے کے بعض حصوں کی تعمیرِ نو کا آغاز بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اسرائیل اس تنصیب کو آئی آر جی سی سے منسلک قرار دیتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل نے مارچ میں اس کمپلیکس، بندرگاہی تنصیبات، کمانڈ سینٹر اور دیگر اہداف کو اس مقصد سے نشانہ بنایا تھا کہ روس اور ایران کے درمیان سازوسامان کی ترسیل کے راستے کو منقطع کیا جا سکے۔ اسرائیل کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام کے سابق کمانڈر ران کوخاو نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو میں کہا: "انہوں نے اپنے اسلحہ خانے دوبارہ بھر لیے ہیں۔ ایران کے پاس صنعتی صلاحیت اور تعمیرِ نو کی غیر معمولی استعداد موجود ہے۔" وال اسٹریٹ جرنل نے مزید لکھا کہ اگرچہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے اب بھی ایک مہنگے اور وقت طلب عمل کا سامنا ہے، تاہم بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار بحالی نے ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے ان دعوؤں کو چیلنج کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی صلاحیتوں کو فیصلہ کن اور تباہ کن نقصان پہنچایا گیا ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو اپنے اپنے ممالک میں ان اہداف کے حصول میں ناکامی پر سیاسی دباؤ کا سامنا ہے جن میں ایران میں نظام کی تبدیلی، ایرانی جوہری پروگرام کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانا شامل تھا۔