اسرائیلی جارحیت کیخلاف پاکستان کی حمایت پر شکر گزار ہیں: ایرانی صدر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
فوٹو: پی آئی ڈی
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان کی حمایت پر دل سے شکر گزار ہیں۔
اسلام آباد میں ایرانی صدر نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اسرائیل خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، علاقائی امن اور ترقی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ روابط برقرار رکھنے اور مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی شکل دینے کے لیے پُرعزم ہیں، مشترکہ اقتصادی زونز کے قیام اور سرحدی تجارت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، سرحدی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے دو طرفہ تعاون جاری ہے۔
برادر اسلامی ملک ایران اور پاکستان کے درمیان مختلف معاہدوں و مفاہمتی یاداشتوں کی دستاویزات کا تبادلہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران تاریخ، زبان، ادب، ثقافت اور مذہبی رشتے میں بندھے ہیں، پاکستانی ادب اور شاعری نے مسلمانوں کے نظریے اور مستقبل کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کا کلام خوبصورت اور متاثر کن ہے، ہمیں بطور سیاستدان، مذہبی رہنما اور تاجر ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے، عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کے اتحاد کی سخت ضرورت ہے، علامہ اقبال کی شاعری ہمارے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہیں، دو طرفہ تعلقات کو مختلف جہتوں میں آگے بڑھا رہے ہیں، سیاسی، اقتصادی، ثقافتی شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینا ترجیح ہے، مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امن کے لیے مسلمان ملکوں کو متحد ہونا چاہیے، غزہ، لبنان اور شام میں جارحیت اسرائیلی مذموم عزائم کا حصہ ہے، اسرائیلی جارحیت خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایرانی صدر نے کہا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔