صدر آصف علی زرداری اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات، دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
صدرِ آصف علی زرداری اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ایوانِ صدر میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری نے ایرانی صدر کا ایوانِ صدر آمد پر پُرتپاک خیرمقدم کیا اور پاکستان کے لیے ایران کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں برادر ممالک کو وسیع اور باہمی فائدے کے حامل شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط کرنا چاہیے۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کی بنیاد مشترکہ مذہب، ثقافت اور باہمی احترام پر ہے، اور یہ رشتہ وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہا ہے۔
دونوں صدور نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مربوط سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تنازعات کو بڑھنے سے روکنے کے لیے باہم تعاون جاری رکھیں گے ۔ صدر زرداری نے علاقائی معاملات پر ایران کے اصولی مؤقف کی تعریف کی اور تہران کی مستقل حمایت پر اظہار تشکر کیا۔
صدر نے جموں و کشمیر پر بھارتی غیر قانونی قبضےکے خلاف ایران کی عوامی و اخلاقی حمایت، خاص طور پر رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی جانب سے، پر شکریہ ادا کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے ایران کے خلاف حالیہ اسرائیلی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی عوام کی جرات، استقامت اور اتحاد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے 12 روزہ جنگ کے دوران پاکستانی قیادت اور عوام کی بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے پُرامن حل کے لیے تعمیری کردار ادا کیا ہے۔
صدر زرداری نے امید ظاہر کی کہ صدر پزشکیان کا موجودہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور خطے میں پائیدار امن و ترقی کی نئی راہیں کھولے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔