کشمیر کا ریاستی درجہ بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر بحال کیا جائے، کمیونسٹ پارٹی
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
پارٹی کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ مودی نے کئی بار کشمیر کے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ ریاستی درجہ جلد از جلد بحال کیا جائے گا لیکن چھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی عوام کو اسکا انتظار ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ کر جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بغیر کسی تاخیر کے فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے اپنے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو ریاستی درجہ کی بحالی کا وعدہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے چھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی "دہلی سے دوری" کا احساس برقرار ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل کانگریس نے بھی دفعہ 370 کی بحالی کے حوالہ سے وزیراعظم کو خط لکھ کر جاری پارلیمانی مونسون سیشن میں اس پر بحث کا مطالبہ کیا تھا۔ ڈی راجہ نے اپنے خط میں کہا کہ اگست 2019ء میں جب دفعہ 370 کو منسوخ کیا گیا اور ریاست کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کیا گیا، تو حکومت نے اسے ایک "عارضی اور عبوری اقدام" قرار دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ خود بھارتی وزیراعظم نے کئی بار قوم خاص کر جموں و کشمیر کے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ ریاستی درجہ جلد از جلد بحال کیا جائے گا لیکن چھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی عوام کو اس کا انتظار ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر کے لوگوں نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں ریکارڈ ووٹنگ شرکت کے ذریعے جمہوریت پر اپنا غیر معمولی یقین ظاہر کیا ہے۔ اس کے علاوہ پہلگام دہشتگرد حملے پر ان کے پُرامن ردعمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ ہندوستان کے تصور کے ساتھ ہیں، لیکن زمینی سطح پر سب کچھ معمول کے مطابق نہیں ہے۔ دریں اثناء جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوالیہ انداز میں کہا کہ آپ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ کب واپس کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔