اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر 79 واں یوم آزادی شایان شان طریقے سے منانے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں، صوبہ بھر میں تقریبات، سجاوٹ، ریلیوں اور پرچم کشائی کی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہو گیا، جبکہ 14 اگست یوم آزادی بروز جمعرات عام تعطیل ہوگی۔ تفصیلات کےمطابق ہر ڈسڑکٹ میں جشن آزادی کی خصوصی سرگرمیاں کو آج سے آغاز ہو گیا،یکم سے 14 اگست تک کی سرگرمیوں کو حتمی شکل پہلے ہی دی جا چکی ہے۔مرکزی تقریب 14 اگست کو حضوری باغ میں ہوگی، وزیر اعلی قومی پرچم لہرائیں گی،مریم نواز 14 اگست کو ایکسپو سینٹر لاہور میں ‘معرکہ حق پارک کی نقاب کشائی کرینگی،معرکہ حق میوزیم اور یادگار معرکہ حق کی نقاب کشائی بھی کی جائے گی،عوام کے تمام طبقات کی بھرپور شرکت کیساتھ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
جشن آزادی 14 اگست بروز جمعرات عام تعطیل کا اعلان کردیا گیا، ویلفیئر ونگ نے نوٹیفیکیشن تمام محکموں میں تقسیم کر دیا، چودہ اگست کو تمام دفاتر سو ل سیکرٹریٹ ادارے بند ہونگے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔