پرتگال میں جائیدادیں، اربوں کی سلامی، خواجہ آصف کا بیوروکریسی پر سنگین الزام
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی نصف سے زائد بیوروکریسی پرتگال میں جائیدادیں خرید چکی ہے اور اب وہ شہریت کے حصول کی تیاری میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:زندہ قومیں اپنے محسنوں کی عزت کرتی ہیں، خواجہ آصف کا آرمی چیف کو فیلڈ مارشل بنائے جانے پر بیان
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ بیوروکریٹس، جو اپنے وقت کے نامور اور بااثر افسران تھے، اربوں روپے کی کرپشن کر کے اب پُرسکون ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔
وطن عزیز کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی لے چکی ھے اور شہریت لینی کی تیاری کر رہی ھے۔ اوریہ نامی گرامی بیوروکریٹس ھیں ۔ مگر مچھ اربوں روپے کھا کے آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہیں۔ بزدار کا ایک قریب ترین بیوروکریٹ چار ارب بیٹیوں کی شادی پر صرف سلامی وصول کر چکا…
— Khawaja M.
وزیر دفاع نے مزید انکشاف کیا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ایک قریبی بیوروکریٹ نے اپنی بیٹیوں کی شادی پر صرف سلامی کی مد میں 4 ارب روپے وصول کیے۔
مزید پڑھیں:’اسٹاپ اسرائیل، فری غزہ‘، اسپین کی ویڈیو شیئر کرنے پر خواجہ آصف پر تنقید کیوں؟
خواجہ آصف نے سیاستدانوں کو نسبتاً کم بدعنوان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تو صرف ان بیوروکریٹس کا چھوڑا ہوا ’بچاکھچا‘ کھاتے ہیں کیونکہ ان کے لیے الیکشن لڑنا اور عوام میں جانا ضروری ہوتا ہے، اس لیے نہ وہ پلاٹ لیتے ہیں، نہ غیر ملکی شہریت۔
خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ بیوروکریسی ہی دراصل پاکستان کی سرزمین کو پلید کر رہی ہے، اور اصل خرابی کی جڑ یہ طبقہ بن چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایکس بیوروکریٹ بیوروکریسی پاکستان پلید خواجہ آصف سلامی عثمان بزدار وزیراعلٰی پنجاب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایکس بیوروکریٹ بیوروکریسی پاکستان پلید خواجہ ا صف سلامی خواجہ ا صف خواجہ آصف
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان