25 فیصد مزید ٹیرف لگنے پر بھارت کا ردِ عمل بھی سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت اپنے قومی مفاد کا تحفظ کرے گا، امریکا کا مزید 25 فیصد ٹیرف لگانے کا فیصلہ افسوس ناک ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا کے بھارت کے خلاف اقدامات غیرمنصفانہ، بلاجواز، غیرضروری ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کی جانب سے بھارت پر مزید 25 فیصد ٹیرف لگنے کا معاملہ، بھارت کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت اپنے قومی مفاد کا تحفظ کرے گا، امریکا کا مزید 25 فیصد ٹیرف لگانے کا فیصلہ افسوس ناک ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا کے بھارت کے خلاف اقدامات غیرمنصفانہ، بلاجواز، غیرضروری ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا بھارت کو روس سے تیل خریدنے کی وجہ سے نشانہ بنا رہا ہے، بھارت روس سے تیل خریدنے سے متعلق اپنا موقف پیش کرچکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارتی وزارت خارجہ
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔