کل احتجاج میں لوگ کیوں نہیں پہنچے، پارٹی میں اس پر بات کروں گا: سلمان اکرم راجہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
—فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ کل احتجاج میں لوگ کیوں نہیں پہنچے؟ پارٹی میں اس پر بات کروں گا۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اور محمود اچکزئی کل رات 11 بجے تک بانی کی بہنوں کے ساتھ چکری انٹرچینج پر رہے۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی کال ہو کوئی ایم این اے بغیر معقول وجہ کیسے دور رہ سکتا ہے، احتجاج میں شامل نہ ہونے کی اگر کوئی معقول وجہ نہیں تو اس کا جواب دینا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ کل کے احتجاج پر میں نے کہا تھا یہ صوبائی اور مقامی سطح کا ہو گا، میں سمجھتا ہوں کل کا دن بڑی حد تک کامیاب رہا، کل کا احتجاج اسے بہتر ہو سکتا تھا اور آئندہ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ کل عوام نے ثابت کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اور مقامی قیادت کو بتایا گیا تھا وہ خود احتجاج ترتیب دیں، لوگ کیوں نہیں نکلے اس پر بانی سے مشاورت کریں گے، کل کا احتجاج اچھی کوشش تھی اس میں مزید بہتری آئے گی، کل کا احتجاج آخری احتجاج نہیں تھا، یہ عمل جاری رہے گا۔
پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ توشہ خانہ ٹو کا ٹرائل مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، سائفر کیس میں بھی فیملی، میڈیا اور وکلاء کو داخلے سے روک دیا گیا تھا، سائفر کیس کا ٹرائل ہائی کورٹ نے 2 مرتبہ کالعدم قرار دیا۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کی واضح ہدایات ہیں اگر میڈیا، وکلاء اور فیملی کو داخلہ نہیں دیا جاتا تو یہ اوپن ٹرائل نہیں، 26ویں ترمیم کے بعد پھر میڈیا، فیملی اور وکلاء کو روکا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ توشہ خانہ کیس ٹو میں میرا وکالت نامہ ہے، مجھے بھی روکا گیا ہے، ہم اس غیر آئینی ٹرائل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے، جب تک قانون کی اطاعت نہیں ہوگی یہ ٹرائل نہیں چل سکتا، بیرسٹر سلمان صفدر اندر گئے ہیں وہ یہ نکتہ عدالت کے سامنے اٹھائیں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات کا فیصلہ بالآخر بانی نے کرنا ہے، مذاکرات ان کی اجازت سے ہوں گے، موجودہ ماحول میں کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے، جب ایک ایس ایچ او ہائی کورٹ کے حکم نہیں مانتا ایسے میں کیا مذاکرات ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجہ کل کا احتجاج کہنا تھا کہ نے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔