لیجنڈز لیگ: پاکستان چیمپئنز کے مالک نے پی سی بی کی پابندی کو رد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
کراچی:
ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں پاکستان چیمپئنز کے مالک نے پی سی بی کی پابندی کو رد کردیا۔
کامل خان سابق پاکستانی کپتان وقار یونس کے برادر نسبتی اور آسٹریلوی شہری ہیں، حال ہی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے انگلینڈ میں کھیلی گئی ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان چیمپئنز کے مالک کامل خان نے کہا کہ میں نے رپورٹس دیکھیں کہ ہماری ٹیم کو سپورٹ نہیں کیا جائے گا، یہ بات کہاں سے آئی، اگر ایسا پی سی بی نے کہا تو معلوم نہیں کہ وجہ کیا بنی، یہ ہماری ٹیم ہے اور میں اس کا مالک ہوں، یہ پی سی بی کی ٹیم نہیں ہے۔
کامل خان نے کہا کہ کوئی بھی ہمیں اپنے ملک کا نام استعمال کرنے سے نہیں روک سکتا، ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں پاکستانی پلیئرز کی شمولیت پی سی بی کی اجازت سے ہوئی، ہمیں اس حوالے سے بورڈ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ایونٹ سے پہلے ہی این او سی بھی حاصل کیے گئے تھے، ہماری چیئرمین محسن نقوی سے مثبت میٹنگ ہوئی تھیں، ہم نے ٹیم کا نام ملک کی نمائندگی کیلیے منتخب کیا، ہم نے پی سی بی کا لوگو یا اس کی کسی بھی قسم کی برانڈنگ استعمال نہیں کی، صرف ان کے پلیئرز کی خدمات حاصل کیں اور وہ بھی اس وقت جب ہمیں اس کی آفیشل کلیئرنس ملی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں پاکستان پی سی بی کی
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔