بروقت انصاف کیلئے ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹس، 13 قسم کے مقدمات پر ٹائم لائنز مقرر کر رہے ہیں: چیف جسٹس
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
کراچی (سٹاف رپورٹر +نیٹ نیوز) چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ اور وکلاء برادری کے درمیان تعاون کو ہر صورت یقینی بنائیں گے۔ چیف جسٹس سے سندھ ہائی کورٹ بار کے وفد نے ملاقات کی۔ جسٹس یحییٰآفریدی نے کہا کہ بینچ اور بار نظامِ انصاف کے لازم و ملزوم ستون ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹس بنائی جا رہی ہیں۔ 13 اقسام کے مقدمات کے فیصلے کے لیے ٹائم لائنز مقرر کی جا رہی ہے۔ سولرائزیشن اور ای-لائبریریز بارز کے لیے متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ عدلیہ کو بیرونی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے ہائی کورٹس کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ عدالت سے منسلک ثالثی کا نظام ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ضلعی عدلیہ کی بھرتی و تربیت کا معیار مقرر کرنے کے لیے کمیٹی قائم کی ہے۔ جبری گمشدگیوں پر ادارہ جاتی ردعمل کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے یقین دہانی کرائی کہ بار کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ وکلاء کی تجاویز متعلقہ فورمز پر زیرِ غور لائی جائیں گی۔ صدر سندھ ہائی کورٹ بار نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ پرانے سول مقدمات کے لیے ماڈل سول کورٹس قائم کی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں