ایشیا ہاکی کپ میں پاکستان کی جگہ بنگلا دیش کو شامل کرلیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
ایشیا ہاکی کپ میں پاکستان کی جگہ بنگلادیش کو شامل کرلیا گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان نے بھارت میں ایشیا کپ کھیلنے سے انکار کیا تھا، ایشیا کپ 27 اگست سے 7 ستمبر تک بھارت کے شہر راجگیر میں شیڈول ہے، پاکستانی حکومت نے پاکستانی ٹیم کو بھارت میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی تھی۔بھارتی انتہا پسند تنظیموں نے ہاکی ٹیم کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی تھیں، پاکستان نے بھارت اور ایشین ہاکی فیڈریشن کو تحفطات سے آگاہ کیا تھا، ایشیا کپ میں آٹھ ٹیمیں شرکت کریں گی، بھارت، چین، جاپان، ملائیشیا، جنوبی کوریا، عمان، چائنیز تائپے اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔رانا مجاہد سیکرٹری پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کہا کہ پاکستان کو پہلے بھی بھارت میں کھیلنے پر تحفظات تھے اور اب بھی ہیں، اپنے کھلاڑیوں کی جان کا تحفظ سب سے اہم ہے، بھارتی حکومت نے سکیورٹی دینے کی یقین دہانی نہیں کروائی تھی۔رانا مجاہد کا مزید کہنا تھاکہ ایشین ہاکی فیڈریشن نے بنگلہ دیش کو شامل کرنے پرہمیں آگاہ نہیں کیا، پاکستان ہاکی فیڈریشن اپنی حکومت کے فیصلوں کا ماننے کی پابند ہے، ایشیا کپ کے بعد بھی پاکستان کے پاس ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنے کا موقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔