اولمپکس 2028 میں کرکٹ؛ پاکستان کی شمولیت کے لیے کوششیں تیز
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
کراچی:
پاکستان نے لاس اینجلس 2028 میں ہونے والے اولمپک گیمز میں کرکٹ کی تاریخی واپسی میں جگہ حاصل کرنے کے لیے مضبوط لابنگ کی کوششیں تیز کر دیں۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان اور نیوزی لینڈ دونوں کے باہر ہونے کا امکان ہے۔
منتظمین سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ علاقائی کوالیفکیشن کے فارمیٹ پر عمل کریں گے، جو کہ اولمپکس کے مختلف کھیلوں میں ایک عام طریقہ کار ہے۔ موجودہ بات چیت کے مطابق، بھارت (ایشیا) اور آسٹریلیا (اوشینیا) اپنے متعلقہ علاقائی رینکنگ کی بنیاد پر براہِ راست کوالیفائی کریں گے۔
دیگر ممکنہ کوالیفائرز میں برطانیہ (یورپ)، جنوبی افریقا (افریقہ) اور میزبان ملک امریکا شامل ہیں۔ چھٹی اور آخری جگہ ابھی تک غیر یقینی ہے، اور قیاس آرائیاں ہیں کہ یہ کیریبیئن کے کسی ملک یا کسی اور ایشیائی ٹیم کو دی جا سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق موجودہ کوالیفکیشن فریم ورک کے تحت پاکستان اور نیوزی لینڈ کے کوالیفائی نہ کر سکنے کا خطرہ ہے۔ تاہم، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ہار ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
پی سی بی ذرائع نے بتایا کہ’’اولمپکس ایک باوقار ایونٹ ہے اور جب کرکٹ اس میں شامل ہو رہی ہے تو ہم اس موقع سے محروم نہیں رہ سکتے۔‘‘
ذرائع نے مزید کہا کہ ’’آئی سی سی اور ایل اے گیمز کمیٹی کو ایک خط بھیجا جائے گا جس میں ان سے درخواست کی جائے گی کہ وہ کوالیفکیشن کی آخری تاریخ کا اعلان کریں، جو کہ مثالی طور پر گیمز سے ایک سال پہلے ہونی چاہیے۔‘‘
پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف نے پی سی بی سے معاملے پر پہل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اولمپکس ایک باوقار گیم ہے اور ایک تمغہ داؤ پر لگا ہوا ہے۔‘‘
راشد لطیف نے کہا کہ پی سی بی کو چاہیے کہ وہ آئی سی سی اور ایل اے کمیٹی دونوں کے ساتھ رابطہ کرے، اور تجویز دے کہ اگلے سال مارچ میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی رینکنگ کو کوالیفکیشن کے معیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔‘‘
واضح رہے کہ 1990 کے بعد دوسری مرتبہ کرکٹ کو اولمپکس میں شامل کیا گیا ہے، ایل اے 2028 نے مرد و خواتین کرکٹ کے میچز 20 سے 29 جولائی کے درمیان شیڈول کیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی سی بی
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔