لیگی ایم پی اے کے فارم ہاؤس پر سی سی ڈی کا چھاپا گھمبیر صورتحال اختیار کر گیا، ویڈیوز سامنے آ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
راولپنڈی:
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ راولپنڈی کا لیگی ایم پی اے نعیم اعجاز کے فارم ہاؤس اور ڈیرے پر چھاپے کا معاملہ گھمبیر صورتحال اختیار کرگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سی سی ڈی ٹیم نے چھاپا انتہائی مطلوب ملزم کی گرفتاری کے لیے مارا اور اس دوران 3 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ سی سی ڈی ٹیم نے چند افراد کو نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے بھی حراست میں لیا ۔
دوسری جانب ایم پی اے نعیم اعجاز کے ترجمان کا مؤقف بھی سامنے آگیا اور چھاپے کے وقت کی سی سی ٹی وی کیمروں سے بنی ویڈیوز بھی جاری کردی گئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق سی سی ڈی نے بغیر تحقیق کیے فارم ہاؤس پر چھاپا مارا۔ بغیر تحقیقات اور بغیر وجوہات کسی بھی شہری کے گھر میں داخل ہونا غنڈا گردی اور بدمعاشی ہے۔ سی سی ڈی کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمی کو مسترد کرتے ہیں۔ سی سی ڈی نے سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے چھاپے کا ڈراما رچایا۔
چوہدری نعیم اعجاز کے گھر فارم ہاؤس پر رجسٹرڈ کمپنیوں کے گارڈز ڈیوٹی دیتے ہیں۔ سکیورٹی گارڈز کی سرچنگ کا بہانہ بنا کر لوٹ مار اور نقدی لے کر جانا ڈکیتی ہے۔ رات چھاپے کے بعد ایم پی اے نعیم اعجاز نے ون فائیو پر کال کردی کہ سی سی ڈی کے ایس پی اور ایس ایچ او محسن شاہ نے 30 پولیس یونیفارم اور 15 سادہ کپڑوں میں اہلکاروں نے میرے گھر پر چھاپا مارا۔ گھر میں 4 ار آفس بوائے موجود تھے، حمزہ اور نقاش گیٹ پر تھے۔
ون فائیو کال پر بتایا گیا کہ سی سی ڈی اہلکاروں نے حمزہ پر تشدد کیا اور گھر سے نقدی اور 3 ملازمین شفقت ،قادر اور متی کو لے گئے۔ ون فائیو کال ملنے پر ایس ایچ او چونترہ اور ڈیوٹی آفیسر موقع پر پہنچ گئے۔
دوسری جانب سی ٹی ڈی کا مؤقف ہے کہ ٹیم نے چھاپا انتہائی مطلوب ملزم کی گرفتاری کے لیے مارا ۔ انتہائی مطلوب ملزم کے خلاف پرائیویٹ شہری نے اغوا اور قابل اعتراض وڈیو بنانے کا مقدمہ درج کرا رکھا ہے ۔ تمام معاملہ ایم پی اے نعیم اعجاز کے نوٹس میں دیا گیا ۔ ترجمان کے مطابق ایم پی اے نعیم اعجاز سے کہاگیا کہ وہ اپنے ڈیرہ انچارج کو پیش کروا دیں ۔ ڈیرہ انچارج انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمے کا ریکارڈ یافتہ بھی ہے ، لیکن انہوں نے پیش نہ کیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایم پی اے نعیم اعجاز نعیم اعجاز کے فارم ہاؤس سی سی ڈی
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ