پاکستان تحریک انصاف سے نکالے گئے رہنما کی واپسی کی راہ ہموار ہو گئی، انہیں پارٹی کے اندر سے حمایت مل گئی، جس کے بعد پی ٹی آئی میں واپس آنے کے راستے کھلنے لگے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،  جس کے مطابق پارٹی سے نکالے گئے رہنما شیر افضل مروت کے پی ٹی آئی میں واپسی کے راستے کھل گئے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے شیر افضل مروت کو پارٹی میں واپس لانے کی حمایت کر دی ہے۔

پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شیر افضل مروت نے شرکت بھی کی ہے، جہاں انہوں نے کہا کہ پہلے مجھ پر تنقید کی جاتی تھی، اس کے بعد میں جواب دیتا تھا۔ پارٹی اراکین مجھ پر تنقید نہ کریں تو میں بھی جواب نہیں دوں گا۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شیر افضل مروت کی پارٹی میں واپسی کی تائید نثار جٹ نے بھی کی ہے، جس کے بعد شیر افضل مروت سے متعلق پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اپنا مؤقف بانی پی ٹی آئی کے سامنے رکھے گی ۔

اسد قیصر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے فیصلوں کا اختیار بانی پی ٹی آئی کو ہے۔ شیر افضل مروت کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے رکھا گیا ہے۔ پارلیمانی پارٹی کے فیصلوں کو بانی کے سامنے رکھا جائے گا اور  حتمی بات اور فیصلہ بانی ہی کریں گے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ اسامہ میلہ اور خرم ورک نے شیر افضل مروت کے حق میں پارلیمانی پارٹی اجلاس میں گفتگو کی۔ شاندانہ گلزار نے بھی کہا کہ ملک سے باہر بیٹھ کر شہباز گل اور شہزاد اکبر وزیراعلیٰ کے خلاف بیانات دے رہے ہیں، ان کو شوکاز جاری نہیں ہوا۔ عالیہ حمزہ نے سلمان اکرم راجا اور  علی امین کے حوالے سے ٹوئٹ کیا، انہیں کوئی شوکاز نہیں ہوا۔

ذرائع کے مطابق پارٹی میں صرف یکطرفہ فیصلے اور شوکاز دیے جاتے ہیں جو انصاف کے خلاف ہیں ۔ شاندانہ گلزار نے کہا کہ شہباز گل ملک سے باہر بیٹھ کر پارٹی رہنماؤں کے خلاف بیانات اور ولاگ کرتے ہیں۔  ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کی اکثریت نے شیر افضل مروت کے حق میں بات کی  ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پارلیمانی پارٹی شیر افضل مروت پی ٹی آئی کے مطابق پارٹی کے

پڑھیں:

اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔

جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔

دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔

ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔

مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر

اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے