— فائل فوٹو

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کا کہنا ہے کہ گوادر میں آبی پائپ لائن منصوبہ 15 روز میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے آبی قلت سے نمٹنے کے لیے کمیٹی بھی قائم کر دی۔

کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کا اعلامیہ جاری ہوا۔

اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان اور متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ نے آبی منصوبے تیز اور تمام وسائل بروئے کارلانے کی ہدایت دی اور گوادر میں پانی کے بحران پر فوری و طویل المدتی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔

چیئرمین جی پی اے نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ اتھارٹی کا واٹرسیلینیشن پلانٹ 3 لاکھ گیلن یومیہ کی سطح پر بحال کر دیا گیا۔ اگلے 3 دن میں پلانٹ کی استعداد 6 لاکھ گیلن یومیہ تک بڑھائی جائے گی۔

وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ گوادر میں پانی کی قلت کا مسئلہ ہرصورت حل کریں گے، یہ تاخیر برداشت نہیں۔ بجلی بندش کے دوران واٹر پلانٹ متبادل توانائی پر منتقل کرکے آبی ترسیل جاری رکھی جائے۔

وزیراعلیٰ نے شادی کور ڈیم سے پانی کی ترسیل کے لیے ربط تیز کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ آبی پائپ لائن منصوبے 15 روز میں مکمل کیا جائے۔

قلت آب سے نمٹنے کے لیے چیئرمین جی پی اے کی سربراہی میں مختلف محکموں کے سربراہان پر مشتمل رابطہ کمیٹی قائم کر دی گئی۔ اعلامیے کے مطابق رابطہ کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر سی ایم سیکریٹریٹ کو پیشرفت رپورٹ ارسال کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے کراچی(Karachi) اور گوادر(Gwadar) بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں، جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔

کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 سے بڑھ جائے گی، خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔

میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے

حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔

 کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں، پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سمرکیمپ سے متعلق احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر تعلیم پنجاب
  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی