اقوام متحدہ کا اسرائیل کے غزہ پر مکمل قبضے کے منصوبے پر گہری تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی پر مکمل کنٹرول کے حصول کے تازہ فیصلے کو خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام نہ صرف موجودہ کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا دے گا بلکہ فلسطینی عوام کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنے گا۔
ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں گوتیرس کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ لاکھوں فلسطینی شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ زیرحراست افراد کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ بیان میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ یہ قدم علاقائی استحکام کو مزید کمزور کر دے گا۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے غزہ میں جاری انسانی بحران کی طرف توجہ دلائی، جہاں فلسطینی آبادی پہلے ہی شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی منصوبے سے جبری بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ، شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا خدشہ ہے، جو پہلے سے کمزور صورتحال کو مزید خراب کر دے گا۔
گوتیرس نے اپنی سابقہ اپیل کو دہراتے ہوئے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی اور تمام قیدیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے بین الاقوامی عدالت انصاف کی 2024 کی رائے پر عمل کرے اور تمام نئی بستیوں کی تعمیر روک دے۔
بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی غیر قانونی موجودگی ختم کرے۔ گوتیرس نے واضح کیا کہ اس قبضے کے خاتمے اور دو ریاستی حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’غزہ فلسطینی ریاست کا اٹوٹ حصہ ہے اور اسے ایسا ہی رہنا چاہیے۔‘‘
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے جمعہ کو غزہ پر مکمل کنٹرول کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس نے عالمی برادری میں تشویش پیدا کردی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔