Express News:
2026-07-24@06:44:05 GMT

غزہ پر قبضے کا اسرائیلی خواب

اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کا مکمل کنٹرول حاصل کرے گا اور اسرائیل غزہ پر مکمل قبضہ کر کے اتھارٹی تھرڈ پارٹی کے حوالے کی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے چلڈرن فنڈ یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں بھوک کی پالیسی سے بارہ ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکا حالیہ بیان کہ اسرائیل غزہ کا مکمل کنٹرول حاصل کرے گا اور پھر اس پرکنٹرول کسی تیسرے فریق کے حوالے کیا جائے گا، محض ایک سیاسی اعلان نہیں بلکہ ایک ایسے گہرے منصوبے کی جھلک ہے جس کا مقصد نہ صرف فلسطینی سرزمین پر مستقل قبضہ کرنا ہے بلکہ فلسطینی عوام کو ان کی شناخت، خود مختاری اور آزادی سے مکمل طور پر محروم کر دینا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ پہلے ہی انسانی بحران کی بد ترین شکل اختیارکرچکا ہے۔

لاکھوں فلسطینی بے گھر، بھوکے، پیاسے اور بمباری کے خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر لاشوں کے انبار لگ رہے ہیں، بچے ماں باپ سے محروم ہو رہے ہیں، اور ایک پورا معاشرہ ملبے کے ڈھیر میں دفن ہو چکا ہے۔ایسے میں اسرائیل کی جانب سے ’’ غزہ پر مکمل قبضے‘‘ کا عندیہ دینا دراصل عالمی برادری کو کھلا چیلنج دینا ہے۔ نیتن یاہو کی اس سوچ کے پیچھے وہی پرانا استعماری ذہن کارفرما ہے جو طاقت کے زور پر قوموں کو دبانے کا عادی ہے۔

سوال یہ ہے کہ وہ ’’ تیسرا فریق‘‘ کون ہے جسے غزہ کا کنٹرول دیا جائے گا؟ کیا یہ امریکا ہوگا؟ یا کوئی علاقائی طاقت؟ یا کوئی بین الاقوامی تنظیم جسے محض دکھاوے کے لیے لایا جائے گا تاکہ اسرائیل کی غیر قانونی حکمرانی کو جواز فراہم کیا جا سکے؟ جو بھی فریق ہو، اصل بات یہ ہے کہ فلسطینیوں کی مرضی کے بغیر غزہ پرکسی بھی قسم کا کنٹرول ایک اور قبضہ ہو گا،ایک اور ناانصافی ہو گی، اور ایک نیا باب ظلم کا کھولا جائے گا۔

 یہاں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ متنازعہ بات بھی یاد آتی ہے جس میں انھوں نے غزہ کو ایک ’’ تفریحی مقام‘‘ میں تبدیل کرنے کی بات کی تھی۔ اس بیان سے نہ صرف ان کی فلسطینیوں کے مصائب سے بے حسی ظاہر ہوئی، بلکہ یہ بھی عیاں ہوا کہ ان کی نظر میں غزہ ایک انسانی المیہ نہیں، بلکہ ایک معاشی منصوبہ ہے۔

ایسی سوچ محض سیاسی لاعلمی نہیں بلکہ ظالمانہ استحصالی ذہنیت کی عکاسی ہے، اگر اسرائیل کے زیرِ اثر غزہ کو کسی ایسے ’’ ترقیاتی منصوبے‘‘ میں بدلا گیا جس کا فائدہ صرف قبضہ گیر طاقتوں کو پہنچے، تو یہ ایک نئی طرزکی نوآبادیات ہو گی جس کا مقصد زمین ہتھیانا اور لوگوں کو بے دخل کرنا ہوگا۔ یہ کوئی راز نہیں کہ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مدت میں عالمی سطح پر جو معاشی پالیسیاں اختیارکیں، ان کا واحد مقصد امریکا کی بالادستی کو قائم رکھنا ہے ۔

چین، بھارت، ترکی اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں پر بے جا ٹیرف لگا کر وہ دنیا کو معاشی غلامی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ عالمی تجارتی نظام میں ان کی یکطرفہ پالیسیاں بے یقینی، عدم اعتماد اور معاشی عدم توازن کا سبب بن رہی ہے۔ ان پالیسیوں کے منفی اثرات دنیا کے کئی ممالک کی معیشتوں پر نمایاں ہیں۔ ایسے میں اگر ٹرمپ یا ان کی طرز کی قیادت کو غزہ جیسے حساس خطے میں کوئی کردار ملتا ہے، تو یہ امن کی نہیں، بلکہ ایک اور بحران کی بنیاد ہو گی۔

غزہ کی موجودہ صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہاں ہر قسم کا انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت ہے، پینے کا صاف پانی ناپید ہے، اسپتال تباہ ہو چکے ہیں اور جو بچ گئے ہیں ان میں ادویات نہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے، ریڈ کراس اور بین الاقوامی تنظیمیں مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری انسانی امداد نہ پہنچی تو لاکھوں جانیں خطرے میں ہیں، لیکن بدقسمتی سے اسرائیل کی بمباری جاری ہے، اور عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔

امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا حمایتی ہے، اس کے سامنے انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادیں سب بے معنی ہو کر رہ گئی ہیں۔ فلسطینی عوام کا مسئلہ صرف زمین یا اقتدار کا نہیں، بلکہ ان کا مقدمہ انسانیت، آزادی اور بقاء کا ہے۔ ان پر جو ظلم ہو رہا ہے، وہ صرف ایک علاقے تک محدود نہیں، بلکہ پوری دنیا کی خاموشی اس جرم میں شریک بن چکی ہے۔ جب پوری دنیا مظلوم کی حمایت سے گریزکرے، ظالم کو اسلحہ دے، اور صرف مذمت پر اکتفا کرے، تو ظلم کو طاقت ملتی ہے اور امن مزید دور ہو جاتا ہے۔

اسرائیل کی پالیسی واضح ہے، طاقت کے بل پر قبضہ اور فلسطینیوں کو مسلسل دیوار سے لگانا۔ اس کے پیچھے نہ صرف عسکری قوت ہے بلکہ معاشی، سفارتی اور میڈیا کا ایک منظم نیٹ ورک بھی ہے۔ مغربی میڈیا عام طور پر اسرائیلی بیانیے کو زیادہ جگہ دیتا ہے، جب کہ فلسطینیوں کی آواز یا تو دبا دی جاتی ہے یا مشکوک بنا کر پیش کی جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں حقائق عوام تک پہنچنے سے رہ جاتے ہیں، اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کیا جاتا ہے۔

اسرائیل اور امریکا کی یہ مشترکہ حکمت عملی اگر اسی طرح چلتی رہی تو مشرق وسطیٰ ایک ایسے دائمی تنازعے کی لپیٹ میں آ جائے گا جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ پہلے ہی یمن، شام، لبنان اور عراق جیسے ممالک بدامنی کا شکار ہیں، اگر غزہ میں ظلم کا یہ سلسلہ نہ رکا تو یہ آگ پورے خطے کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے۔بین الاقوامی اداروں کی بے بسی اور مسلم دنیا کی خاموشی بھی اس المیے کو مزید گھمبیر بنا رہی ہے۔

او آئی سی جیسا ادارہ محض اجلاسوں اور بیانات کی حد تک محدود ہو چکا ہے۔ مسلم ممالک کے حکمران معاشی مفادات یا سفارتی تعلقات کے تحت اس قدر محتاط ہو چکے ہیں کہ فلسطینیوں کے لیے دو ٹوک موقف اختیارکرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ پر قائم ہے کہ آخر کب تک دنیا فلسطین پر ہونے والے مظالم کو نظرانداز کرتی رہے گی؟ کب تک عالمی برادری صرف تماشائی بنی رہے گی؟

جو ممالک خود کو جمہوریت، انسانی حقوق اور انصاف کے علمبردار کہتے ہیں، ان کے لیے غزہ ایک کڑا امتحان ہے۔ اگر وہ واقعی اپنے دعوؤں میں سچے ہیں تو انھیں فلسطینیوں کے حق میں واضح، عملی اور جرات مندانہ موقف اختیار کرنا ہو گا۔ محض امداد یا مذمتی بیانات سے نہ مظلوم کو ریلیف ملتا ہے اور نہ ہی ظالم کے ہاتھ رکتے ہیں۔یہ مسئلہ محض جغرافیہ یا اقتدار کا نہیں بلکہ انسانی وقار، حقِ زندگی اور انصاف کے بین الاقوامی اصولوں کا امتحان ہے۔

فلسطینی بچوں کی معصومیت، فلسطینی ماؤں کے آنسو، اور فلسطینی نوجوانوں کی قربانیاں یہ گواہی دیتی ہیں کہ وہ صرف اپنے ملک کی آزادی کے لیے نہیں لڑ رہے، بلکہ انسان ہونے کے حق کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ ان کی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان اگر عزت و وقار سے جینا چاہے تو ظلم و جبر کے آگے سر نہیں جھکاتا۔فلسطینیوں کے لیے یہ محض زمین کا سوال نہیں۔ وہ زمین جس پر ان کے آباؤ اجداد نے صدیوں تک زندگی گزاری، عبادت کی، محنت کی، اور نسلیں پروان چڑھائیں، وہ زمین ان کی تاریخ اور ثقافت کا حصہ ہے۔

لیکن آج انھیں اس زمین سے بے دخل کیا جا رہا ہے، ان کی بستیاں مسمار کی جا رہی ہیں، عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور اُن کی تاریخ کو مٹانے کی شعوری کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ سب کچھ کسی اور قوم کے ساتھ ہو رہا ہوتا، تو دنیا کی طاقتور اقوام چیخ اٹھتیں، مگر فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم پر بیشتر عالمی طاقتیں یا تو خاموش ہیں یا خاموش رہنے پر مجبور کی جا چکی ہیں۔انسانی حقوق کے علمبردار ادارے، عالمی تنظیمیں اور اقوام متحدہ کی قراردادیں سب بے اثر دکھائی دیتی ہیں۔ آزادی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔

یہ نہ کسی قوم کی اجارہ داری ہے اور نہ کسی طاقتور ملک کی عنایت۔ فلسطینی قوم نے اپنی آزادی کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، وہ تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھی جائیں گی۔ انھوں نے گولیوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر، ٹینکوں کے سامنے پتھر لے کر کھڑے ہو کر، اور بچوں کی لاشوں کو دفنا کر بھی ہار نہیں مانی۔ ان کے دل میں آج بھی آزادی کی تڑپ زندہ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ شاید وہ خود آزاد نہ ہوں، لیکن ان کی آیندہ نسلیں ایک دن ضرور آزاد فضا میں سانس لیں گی۔ یہی امید انھیں زندہ رکھتی ہے، یہی ایمان انھیں ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونے کی ہمت دیتا ہے۔

دنیا ابھی مکمل طور پر بے ضمیر نہیں ہوئی۔ آج بھی لاکھوں لوگ، خصوصاً نوجوان نسل، سوشل میڈیا کے ذریعے فلسطین کی آواز بلند کر رہے ہیں۔ وہ تصاویر، وڈیوز اور بیانات جو کبھی دنیا سے چھپائے جاتے تھے، آج سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔ یہ ایک مثبت تبدیلی ہے، لیکن اسے منظم کرنے کی ضرورت ہے۔

صرف جذباتی نعروں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہمیں فلسطینی عوام کی حقیقی مدد کرنی ہوگی، چاہے وہ مالی ہو، تعلیمی ہو، یا سفارتی۔وقت آ گیا ہے کہ دنیا دوغلی پالیسیوں سے باز آ کر کھل کر ظالم اور مظلوم کے بیچ فرق واضح کرے۔ فلسطینیوں کی زمین، ان کی شناخت اور ان کا وجود کوئی تجارتی منصوبہ یا سفارتی سودے بازی کا حصہ نہیں۔ یہ ایک قوم کا بنیادی حق ہے جسے کوئی طاقت چھیننے کی کوشش کرے گی تو وہ خود تاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہو گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی فلسطینیوں کے اقوام متحدہ اسرائیل کی کہ اسرائیل ا جائے گا رہے ہیں ہے کہ ا کے لیے کیا جا ہیں کہ

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم