ویب ڈیسک: مفت سولر سسٹم حاصل کرنے کے لئے درخواست دینے اور اہلیت چیک کرنے کا طریقہ کار سامنے آگیا۔

 تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے کم آمدنی والے شہریوں کو مہنگی بجلی سے نجات دلانے کے لیے اہم اقدام اٹھا لیا۔

 حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جو صارفین ماہانہ 100 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں، انہیں مفت سولر سسٹم فراہم کیا جائے گا۔

 اس منصوبے کے تحت 1 لاکھ 30 ہزار خاندانوں کو سولر سسٹمز فراہم کیے جائیں گے۔ مقصد غریب طبقے کو ریلیف دینا اور توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا ہے۔

10 مرلہ میں 2 پودے ،1کنال میں 4 پودے لگانے کی پابندی

  اہلیت کے معیار
 صرف وہ صارف اہل ہوں گے جن کا گزشتہ 6 ماہ کا بجلی کا استعمال 100 یونٹ سے کم ہو۔

 درخواست دہندہ نے کسی دوسرے سرکاری منصوبے کے تحت پہلے سولر سسٹم حاصل نہ کیا ہو۔

 درخواست دینے کا طریقہ کار
 خواہشمند افراد اپنے بجلی کے بل اور قومی شناختی کارڈ کے ہمراہ درخواست فارم فل کریں۔

 فارم کو اپنے یوسی چیئرمین یا کسی گزیٹڈ آفیسر سے تصدیق کرانا لازمی ہوگا۔

د بھارت کی امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری روکنے کی میڈیا رپورٹ کی تردید

  مکمل درخواست فارم محکمہ توانائی سندھ، پروجیکٹ آف ہوم سولر سسٹم آن گرڈ کے دفتر میں جمع کرایا جائے گا۔

 درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 اگست 2025 مقرر کی گئی ہے۔

 حکومت سندھ کے مطابق یہ اقدام نہ صرف مہنگائی سے متاثرہ عوام کو براہ راست فائدہ پہنچائے گا بلکہ بجلی کے بحران پر قابو پانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے