مفت سولر سسٹم حاصل کرنے کے لئے درخواست دینے کا طریقہ کار سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: مفت سولر سسٹم حاصل کرنے کے لئے درخواست دینے اور اہلیت چیک کرنے کا طریقہ کار سامنے آگیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے کم آمدنی والے شہریوں کو مہنگی بجلی سے نجات دلانے کے لیے اہم اقدام اٹھا لیا۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جو صارفین ماہانہ 100 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں، انہیں مفت سولر سسٹم فراہم کیا جائے گا۔
اس منصوبے کے تحت 1 لاکھ 30 ہزار خاندانوں کو سولر سسٹمز فراہم کیے جائیں گے۔ مقصد غریب طبقے کو ریلیف دینا اور توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا ہے۔
10 مرلہ میں 2 پودے ،1کنال میں 4 پودے لگانے کی پابندی
اہلیت کے معیار
صرف وہ صارف اہل ہوں گے جن کا گزشتہ 6 ماہ کا بجلی کا استعمال 100 یونٹ سے کم ہو۔
درخواست دہندہ نے کسی دوسرے سرکاری منصوبے کے تحت پہلے سولر سسٹم حاصل نہ کیا ہو۔
درخواست دینے کا طریقہ کار
خواہشمند افراد اپنے بجلی کے بل اور قومی شناختی کارڈ کے ہمراہ درخواست فارم فل کریں۔
فارم کو اپنے یوسی چیئرمین یا کسی گزیٹڈ آفیسر سے تصدیق کرانا لازمی ہوگا۔
د بھارت کی امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری روکنے کی میڈیا رپورٹ کی تردید
مکمل درخواست فارم محکمہ توانائی سندھ، پروجیکٹ آف ہوم سولر سسٹم آن گرڈ کے دفتر میں جمع کرایا جائے گا۔
درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 اگست 2025 مقرر کی گئی ہے۔
حکومت سندھ کے مطابق یہ اقدام نہ صرف مہنگائی سے متاثرہ عوام کو براہ راست فائدہ پہنچائے گا بلکہ بجلی کے بحران پر قابو پانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔