گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر پاور منصوبے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورہ گلگت کے دوران اعلان کیا تھا کہ ایکنک جلد ہی سولر پاور منصوبہ منظور کرے گا، منصوبہ پہلے ہی سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی سے منظور ہو چکا ہے، منصوبے سے استور، داریل، تنگیر دیامر، گھانچے، غذر، گلگت، ہنزہ، اشکومن، نگر، روندو، اسکردو اور شگر کے اضلاع مستفید ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے عوام سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کر دیا، ایکنک نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر پاور منصوبے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم کے اعلان کے محض 2 دن بعد ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) نے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں 100 میگاواٹ سولر فوٹو وولیٹک پاور پلانٹ منصوبے کی منظوری دی، جس کے بعد منصوبے پر کام کا باضابطہ آغاز ہو جائے گا۔
وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورہ گلگت کے دوران اعلان کیا تھا کہ ایکنک جلد ہی یہ منصوبہ منظور کرے گا، منصوبہ پہلے ہی سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی سے منظور ہو چکا ہے، منصوبے سے استور، داریل، تنگیر دیامر، گھانچے، غذر، گلگت، ہنزہ، اشکومن، نگر، روندو، اسکردو اور شگر کے اضلاع مستفید ہوں گے۔
پہلے مرحلے میں ضلع سکردو کو 18.
تیسرے مرحلے میں باقی اضلاع کو 16.096 میگاواٹ بجلی دی جائے گی، ہسپتالوں اور سرکاری دفاتر کے لیے آف دی گرڈ 18.162 میگاواٹ بجلی مختص ہوگی۔ 24957 ملین روپے لاگت سے 3 سالہ منصوبے کی تکمیل سے گلگت بلتستان میں بجلی کی کمی دور کرنے اور عوامی سہولیات میں نمایاں بہتری کی توقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان منصوبے کی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔