فرقہ واریت کی آگ میں صرف اقلیتیں نہیں جل رہیں بلکہ ملک کا وجود جھلس رہا ہے، مولانا محمود مدنی
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
اپنے خطاب میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے موجودہ ملکی حالات پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک ایک نئے دوراہے پر ہے جہاں نفرت کو حب الوطنی کا لبادہ پہنایا جارہا ہے اور ظالموں کو قانون کی زد سے بچایا جارہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے "آزادی کی آواز، ہندوستان کے ورثے کا جشن" کے عنوان سے منعقد اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ آزادی محض اتفاق سے نہیں ملی بلکہ ایک صدی سے زائد کی مسلسل جدوجہد اور عظیم قربانیوں کے نتیجے میں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ جو قوم اپنی شناخت، تہذیب اور مذہب کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی ہے، اسے قربانی دینی ہی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج ہم قربانی سے گریز کریں گے تو آنے والی نسلوں کو اس سے کہیں بڑی قربانیاں دینی پڑیں گی۔ واضح ہو کہ اس اہم اجلاس میں جنوبی ہند کے نامور وکلاء، دانشوران اور جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ کارکنان کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔ اجلاس کی نظامت حسن احمد جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء تمل ناڈو نے کی جبکہ صدر جمعیۃ علماء ہند کے خطاب کا خلاصہ صدر جمعیۃ علماء تمل ناڈو مولانا منصور کاشفی نے پیش کیا۔
اپنے کلیدی خطاب میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے موجودہ ملکی حالات پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک ایک نئے دوراہے پر ہے جہاں نفرت کو حب الوطنی کا لبادہ پہنایا جا رہا ہے اور ظالموں کو قانون کی زد سے بچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کی آگ میں صرف اقلیتیں نہیں جل رہیں بلکہ ملک کا وجود جھلس رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آئینی حقوق موجود ہیں، لیکن ان کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عموماً یہ ذمہ داری پارلیمنٹ یا عدلیہ پوری کرتی ہے لیکن بدقسمتی سے آج نہ پارلیمنٹ اور نہ انتظامیہ سے یہ توقع کی جا سکتی ہے۔ امید کی واحد کرن عدلیہ اور قانون کے شعبے میں ہیں، اگرچہ ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ سب سے زیادہ کوتاہی اسی نظام سے ہوئی ہے، پھر بھی ہمیں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیئے۔
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ کامیابی کے لئے تعلیم، تنظیم اور تجارت بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے جنوبی ہند کے مسلمانوں کو شمالی ہند کے مقابلے میں تعلیم، تنظیم اور تجارت میں آگے قرار دیا لیکن کہا کہ ابھی بھی بہت کام باقی ہے، خصوصاً بچیوں کی تعلیم اور تربیت پر زور دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی اور عصری تعلیم کو کم از کم ابتدائی سطح تک یکجا کیا جانا چاہیئے تاکہ طلبہ قرآن بھی پڑھ اور سمجھ سکیں اور عصری مضامین میں بھی مضبوط بنیاد حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہمیں اس سرزمین پر پیدا کیا، یہ ہمارا انتخاب نہیں بلکہ اس کی حکمت ہے۔ یہاں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم کمیونٹی کو تعلیم یافتہ، بااختیار اور مضبوط بنائیں اور دین اسلام کا اعلی کردار کا نمونہ بن کر لوگوں کے دلوں کو جیتیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جمعیۃ علماء ہند کے مولانا محمود مدنی انہوں نے کہا کہ رہا ہے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔