زیارت، اسسٹنٹ کمشنر افضل باقی بیٹے سمیت اغوا
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
زیارت کے تفریحی مقام زرزری میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت افضل باقی کو بیٹے سمیت بندوق کی نوک پر اغوا کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تربت: اسسٹنٹ کمشنر تمپ محمد حنیف نورزئی اغوا، سرچ آپریشن جاری
عینی شاہدین کے مطابق افضل باقی اہلخانہ کے ہمراہ پکنک منانے آئے تھے کہ اچانک مسلح افراد نے گھیر لیا۔ اغوا کار اہلخانہ کو موقع پر ہی چھوڑ کر اے سی زیارت کو اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ ان کے گن مین اور ڈرائیور کو کچھ فاصلے پر آزاد کردیا۔
ملزمان نے اسسٹنٹ کمشنر کی سرکاری گاڑی کو بھی آگ لگا دی، واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز اور مقامی انتظامیہ نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی خان میں اغوا کی سنگین واردات، 11 میں سے 6 ملازمین بازیاب، سرچ آپریشن جاری
ڈپٹی کمشنر زیارت زکا اللہ درانی نے بتایا کہ اغوا کی اس واردات نے حکام کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے، اس سے قبل جون میں ضلع کیچ کی تحصیل تمپ کے اسسٹنٹ کمشنر محمد حنیف نورزئی کو بھی اسی طرح اغوا کیا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسسٹنٹ کمشنر اغوا افضل باقی بلوچستان پاکستان زرزری زیارت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اغوا افضل باقی بلوچستان پاکستان زیارت افضل باقی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔