چین کے فلپائنی بحری جہازوں کو جزیرہ ہوانگ یئن کے قریب پانیوں سےنکالنے کے اقدامات
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
چین کے فلپائنی بحری جہازوں کو جزیرہ ہوانگ یئن کے قریب پانیوں سےنکالنے کے اقدامات WhatsAppFacebookTwitter 0 11 August, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چائنا کوسٹ گارڈ کے ترجمان گان یوئی نے بتایا کہ فلپائن نے چین کی جانب سےبار بار انتباہ کو نظر انداز کرتے ہوئے ماہی گیری کے بحری جہازوں کو سپلائی کی فراہمی کی آڑ میں کوسٹ گارڈ کے متعدد جہازوں اور سرکاری بحری جہازوں کو چین کےجزیرہ ہوانگ یئن کی حدود میں بھیجا۔ چائنا کوسٹ گارڈ نے قانون کے مطابق فلپائنی جہاز وں کو نکالنے کے لئے ضروری اقدامات کیے،
جو پیشہ ورانہ ، مناسب اور قانونی تھے ۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ جزیرہ ہوانگ یئن چین کا علاقہ ہے۔ چائنا کوسٹ گارڈ قانون کے مطابق جزیرہ ہوانگ یئن کے پانیوں میں حقوق کے تحفظ کے لئے قانون نافذ کرنے کی سرگرمیاں جاری رکھےگا اور ملکی علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق و مفادات کا ثابت قدمی سے دفاع و حفاظت جاری رکھے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین کے پانچ نیشنل پارکس کے لئے حقوق کی رجسٹریشن مکمل ہو گئی چین کے پانچ نیشنل پارکس کے لئے حقوق کی رجسٹریشن مکمل ہو گئی انصاف صرف دلوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے عمل میں لانے کی ضرورت ہے، رپورٹ الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر سنگین الزامات، دہلی پولیس نے راہول گاندھی کو گرفتار کرلیا ایران نے نئے جوہری سائنس دان روپوش کردیے، اسرائیل کی نئی ہٹ لسٹ تیار ایشیا کے امیر ترین آدمی مکیش امبانی کو اپنی کمپنی سے کتنی تنخواہ ملتی ہے؟ آسٹریلیا کا ستمبر میں جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جزیرہ ہوانگ یئن بحری جہازوں کو
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔