راولپنڈی میں پسند کی شادی کرنے والی خاتون اور چند ماہ کے بچے کو ذبح کرنے کا معاملہ جائیداد کا تنازعہ نکلا
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اگست2025ء) راولپنڈی میں پسند کی شادی کرنے والی خاتون اور چند ماہ کے بچے کو ذبح کرنے کا معاملہ جائیداد کا تنازعہ نکلا، قاتل بھائی 2 بہنوں کی جائیداد ہتھیانا چاہتا تھا، والد کی جانب سے بیٹوں کی جائیداد بیٹے کے نام کرنے سے انکار کرنے پر قاتل نے والد اور بہنوں کو قتل کر ڈالا، راولپنڈی میں پسند کی شادی کرنے والی خاتون اور شیر خوار بچے کو ذبح کرنے والے ملزم نے بزرگ والد اور دوسری بہن کو بھی قتل کر ڈالا، ملزم نے اسلام آباد میں باپ اور بہن کو قتل کیا اور راولپنڈی پہنچ کر دوسری بہن کو قتل کرکے چند ماہ کے بھانجے کو بھی ذبح کر دیا ، ملزم کیخلاف 2 مختلف مقدمات درج کر لیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں سفاک ملزم نے باپ اور دو بہنوں کو قتل کردیا، ملزم نے اسلام آباد میں باپ اور بہن کو قتل کیا اور پنڈی پہنچ کر دوسری بہن کو قتل کرکے 6 ماہ کے بھانجے کو ذبح کردیا جس کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔(جاری ہے)
ملزم محمد علی نے پہلے ترامڑی چوک اسلام آباد میں اپنے باپ 70 سالہ محمود حسین اور چھوٹی بہن 32 سالہ بہن شبنم زارا کو قتل کیا بعد میں راولپنڈی عرفان آباد میں اڈیالہ روڈ آیا اور دوسری بہن 35 سالہ انجم زارا کو قتل اور تین ماہ کے بھانجے سالار کو زخمی کردیا۔
پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے آلہ قتل چھری برآمد کرلی۔ ملزم کو رنج تھا کہ بہن نے پسند کی شادی کیوں کی، مقتولہ 35 سالہ انجم زارا نے ڈیڑھ سال قبل پسند کی شادی کی تھی، مقتولہ کا تین ماہ کا بچہ ہے، ایک ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاملہ جائیداد کا ہے۔ اڈیالہ روڈ جائے وقوع پر ایس پی صدر، اے ایس پی صدر اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور واقعہ میں ملوث شخص کو فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق تین افراد کے قتل کی سنگین واردات کے دو مقدمات درج ہوں گے، پہلا مقدمہ اسلام آباد کے تھانے شہزاد ٹاؤن میں درج ہوگا جس میں دو افراد قتل ہوئے، دوسرا مقدمہ راولپنڈی کے تھانہ صدر بیرونی میں درج ہوگا جس میں ماں قتل اور شدید بیٹا زخمی ہوا۔ راولپنڈی پولیس کی ابتدائی تقتیش کے مطابق قتل جائیداد کے تنازعہ پر ہوئے، ملزم محمد علی اپنے مقتول باپ سے بہنوں کا بھی حصہ ڈیمانڈ کررہا تھا، مقتول باپ بضد تھا کہ وہ دونوں بیٹیوں کے نام جائیداد کرے گا، واردات کی دوسری وجہ غیرت کے نام پر قتل ہوسکتا ہے، اصل حقائق مکمل تفتیش کے بعد سامنے آئیں گے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم بڑی بہن کو قتل کرنے کے بعد بہنوئی کے انتظار میں گھر میں بیٹھا رہا، اہل علاقہ نے مقتولہ کے شوہر کو گھر جانے سے روکے رکھا اتنے میں پولیس نے موقع پر پہنچ کر ملزم کو گرفتار کرلیا۔ واقعے پر سی پی او سید خالد ہمدانی نے نوٹس لیتے ہوئے ایس پی صدر سے رپورٹ طلب کرلی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم نے تیز دھار آلے سے اپنی بہن کو قتل اور بھانجے کو شدید زخمی کیا، ملزم اسلام آباد میں بھی اپنے والد اور ایک بہن کو قتل کر کے آیا ہے۔ ترجمان پنڈی پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ جائیداد کے تنازعہ پر پیش آیا۔ موقع سے شواہد حاصل کیے جارہے ہیں، زخمی بچے کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے، ملزم کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے راولپنڈی میں بہن کو قتل کر پسند کی شادی کے مطابق ملزم کو قتل کی بچے کو ماہ کے کو ذبح
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز