اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) چیئرمین مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) ڈاکٹر کبیر سدھو نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو چینی بحران کی وجوہات پر بریفنگ میں بتایا ہے کہ شوگر ایڈوائزی بورڈ نے گزشتہ سال حکومت کو درست تخمینہ فراہم نہیں کیا تھا۔ غلط تخمینوں کی بنیاد پر چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ شوگر سیکٹر کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کردیا جائے گا۔ وزیر خزانہ کی زیر صدارت اجلاس کے دوران چیئرمین سی سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو نے چینی بحران کی وجوہات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چینی کی برآمدات سے ملک میں چینی کے ذخائر ضرورت سے کم ہوگئے تھے۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ فیصلہ سازی شوگر ملز ایسوسی ایشن کے فراہم کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے، فیصلہ سازی کے لیے آزادانہ اور شفاف ڈیٹا حاصل کیا جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مسابقتی کمیشن شوگر سیکٹر ریفارم کمیٹی کی معاونت کے لیے تجاویز تیار کر رہا ہے۔ 2009-10 کی شوگر انکوائری میں کارٹلائزیشن کے واضح ثبوت سامنے آئے تھے۔ 2010 کا شوگر کارٹل کا فیصلہ آج تک منظر عام پر نہیں لایا جا سکا۔ سندھ ہائی کورٹ نے 2021 تک سٹے دیے رکھا اور اب معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ مسابقتی ٹربیونل نے 2021 کا فیصلہ دوبارہ سماعت کے لیے کمیشن کو بھجوا دیا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ امریکہ سے جلد مختلف شعبوں میں بڑی سرمایہ کاری کی خوشخبری آئے گی۔  امریکا میں تجارتی مذاکرات کے دوران اہم ملاقاتوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ پاکستان کے ساتھ ٹریڈ ڈیل کو امریکی انتظامیہ نے سراہا ہے۔ محمد اورنگزیب سے پاکستان میں ترکمانستان کے سفیر اتاجان موولاموف نے پیر کو وزارت خزانہ میں ملاقات کی۔ وزات خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں دو طرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاص طور پر تجارت، کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ مرکوز رہی۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ترکمانستان جیسے برادر ملک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ ترکمانستان کے وزیر برائے خزانہ و معیشت مامّت گلی آستاناگلوف کی جانب سے سفیر اتاجان موولاموف نے سینیٹر محمد اورنگزیب کو ترکمانستان انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت دی۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: محمد اورنگزیب کے لیے

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا