واشنگٹن میں ٹرمپ کا غیر معمولی اقدام، نیشنل گارڈ تعینات، پولیس کا کنٹرول سنبھال لیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں 800 نیشنل گارڈ اہلکار تعینات کرتے ہوئے شہر کی میٹروپولیٹن پولیس کا کنٹرول براہِ راست وفاقی حکومت کے تحت لے لیا۔
یہ اقدام مقامی منتخب قیادت کو نظرانداز کرتے ہوئے کیا گیا، جسے امریکی سیاست میں غیر معمولی اور متنازع قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ "جرائم کی لہر" کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے، حالانکہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال سے شہر میں جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے۔ 2023 میں جرائم میں اضافہ ہوا تھا لیکن 2024 میں 35 فیصد اور 2025 کے پہلے سات ماہ میں مزید 26 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ڈیموکریٹک میئر موریل باؤزر اور دیگر رہنماؤں نے ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور غیر ضروری اقدام قرار دیا۔ شہر کے اٹارنی جنرل برائن شواب نے کہا کہ تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو شکاگو سمیت دیگر ڈیموکریٹک شہروں میں بھی اسی طرح کارروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل جون میں ٹرمپ نے لاس اینجلس میں 5,000 نیشنل گارڈ اہلکار تعینات کیے تھے، جس پر مقامی حکومت نے شدید اعتراض کیا تھا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے واشنگٹن کی مقامی خودمختاری ختم کرنے اور مکمل وفاقی کنٹرول نافذ کرنے کی قانونی راہیں تلاش کرنے کی بات کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔