14 اگست تقریبات: اسلام آباد داخل ہونے والی ہیوی ٹریفک کا داخلہ آج رات 12 بجے سے بند
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
14 اگست کی معرکہ حق تقریبات کے دوران اسلام آباد اور راولپنڈی میں ٹریفک کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ نیشنل ہائی وے موٹروے پولیس نے اسلام آباد داخل ہونے والی تمام ہیوی ٹریفک کا داخلہ آج رات 12 بجے سے بند کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ جشن آزادی کی تقریبات میں خلل نہ پڑے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد: جشنِ یوم آزادی پر شکرپڑیاں پریڈ گراؤنڈ میں رنگا رنگ تقریبات کا انعقاد
پشاور سے راولپنڈی آنے والی ہیوی گاڑیوں کو سنگجانی کے مقام پر روک دیا جائے گا جبکہ لاہور سے راولپنڈی آنے والی ہیوی ٹریفک کو ٹی چوک پر روکا جائے گا۔
موٹروے پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جاری کردہ ٹریفک پلان کی مکمل پابندی کریں اور اپنی روانگی کے لیے متبادل راستے اختیار کریں تاکہ ٹریفک کے نظام میں روانی برقرار رہے اور عوام کو سہولت حاصل ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
14 اگست اسلام آباد ٹی چوک جشن آزادی سنگجانی معرکہ حق ہیوی ٹریفک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 14 اگست اسلام آباد ٹی چوک معرکہ حق ہیوی ٹریفک اسلام آباد ہیوی ٹریفک
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔