ایپل سستا ترین میک بک لانچ کرنے کے لیے تیار، ممکنہ قیمت کیا ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچانے والی کمپنی ایپل آئندہ برسوں میں 2 بڑے پروڈکٹس متعارف کرانے جا رہی ہے، جن میں ایک کم قیمت میک بک اور 2027 میں لانچ ہونے والے اسمارٹ گلاسز شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کم قیمت میک بک کی بڑے پیمانے پر پیداوار 2025 کی چوتھی سہ ماہی کے آخر یا 2026 کی پہلی سہ ماہی کے آغاز میں شروع ہوگی، یہ نیا ماڈل تقریباً 13 انچ ڈسپلے اور اے18 پرو پروسیسر کے ساتھ آئے گا، جبکہ اس کے ممکنہ رنگوں میں سلور، بلیو، پنک اور ییلو شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کا امریکا میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان
ایپل کا ہدف ہے کہ 2026 میں میک بک کی مجموعی فروخت کو کووڈ 19 کے عروج کے دور کے قریب، یعنی 2 کروڑ 50 لاکھ یونٹس تک پہنچایا جائے، جو 2025 میں متوقع 2 کروڑ یونٹس سے نمایاں اضافہ ہوگا، اس نئے ماڈل کی 2026 میں متوقع فروخت 50 سے 70 لاکھ یونٹس تک ہو سکتی ہے۔
https://t.
— 郭明錤 (Ming-Chi Kuo) (@mingchikuo) June 30, 2025
اس کے ساتھ ہی ایپل 2027 میں اپنے جدید اسمارٹ گلاسز بھی لانچ کرنے جا رہا ہے، جو اگرچہ ڈسپلے کی سہولت نہیں رکھتے، لیکن آڈیو پلے بیک، کیمرہ، ویڈیو ریکارڈنگ اورمصنوعی ذہانت پرمبنی ماحول کی شناخت جیسی خصوصیات سے لیس ہوں گے۔
مزید پڑھیں:ایلون مسک نے ’ایپل‘ کو قانونی کارروائی کی دھمکی کیوں دی؟
فریم اورٹیمپل کے لیے مختلف مٹیریلز پر کام جاری ہے اور کمپنی 3 ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کو بھی پیداوار میں شامل کرنے کی جانچ کر رہی ہے، ان اسمارٹ گلاسز کی 2027 میں متوقع فروخت 30 سے 50 لاکھ یونٹس یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
ان دونوں مصنوعات میں ایورون پریسیژن کلیدی کردار ادا کرے گا، جو کم قیمت میک بک کے کیسزاوراسمارٹ گلاسز کے فریم یا ٹیمپل کا ریفرنس ڈیزائن سپلائرہوگا، کمپنی پہلے ہی میک بک پرو کے کیسز فراہم کر رہی ہے اور 2026 سے میک بک ایئر کے کیسز بھی فراہم کرنا شروع کرے گی۔
مزید پڑھیں: فولڈ ایبل آئی فون 17 ایئر کب لانچ ہوگا، خصوصیات کیا ہیں؟
ان نئے آرڈرز سے ایورون پریسیژن کی 2026 میں آمدنی میں سال بہ سال 15 سے 20 فیصد اور منافع میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق، ایپل کی یہ حکمتِ عملی نہ صرف کمپنی کی فروخت میں خاطر خواہ اضافہ کرے گی بلکہ دنیا بھر میں لیپ ٹاپ اور ویئرایبل ڈیوائسز کی مارکیٹ میں ایک نیا رجحان بھی متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسمارٹ گلاسز ایپل ڈیزائن سپلائر سستا قیمت لیپ ٹاپ مصنوعی ذہانت میک بک ویئرایبل ڈیوائسز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسمارٹ گلاسز ایپل ڈیزائن سپلائر سستا لیپ ٹاپ مصنوعی ذہانت میک بک اسمارٹ گلاسز میک بک
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم