سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایس سی بی اے پی) کے صدر میاں محمد رؤف عطا ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ رولز 1980 میں حالیہ ترامیم اور عدالت عظمیٰ میں فیسوں میں غیر معمولی اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم و اضافے بغیر کسی بامعنی مشاورت کے کیے گئے، جو وکلاء برادری کے کردار کو نظر انداز کرتے ہیں اور انصاف تک عوامی رسائی کو محدود کرنے کا خطرہ پیدا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نجی ایئر لائن کے طیارے کو رن وے پر جھٹکے، صدر سپریم کورٹ بار کا تحقیقات کا مطالبہ

میاں رؤف عطا نے کہا کہ عدالت عظمیٰ آئینی طور پر انصاف کی فراہمی کا سب سے بڑا فورم ہے، جس کا مقصد عوام، خاص طور پر غریب اور کمزور طبقات، کو مالی رکاوٹوں سے آزاد انصاف فراہم کرنا ہے۔

ان کے مطابق فیسوں میں حالیہ اضافہ شہریوں کے لیے داد رسی کے حق کو مشکل بنا سکتا ہے اور انصاف کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دے گا، جو جمہوری قانونی نظام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وکلا، فریقین اور تمام متعلقہ افراد کی عزت، احترام اور منصفانہ سلوک کو ہر مرحلے پر یقینی بنایا جانا چاہیے۔

ان کے مطابق بھاری فیسوں سے قانونی چارہ جوئی کا خرچ بڑھے گا اور عام شہری کے لیے مقدمات چلانا مزید دشوار ہو جائے گا، جو آئین کے آرٹیکلز 8 سے 39 کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

میاں رؤف عطا نے کہا کہ سپریم کورٹ کو انصاف کی فراہمی میں صبر اور مکمل سماعت پر زور دینا چاہیے، بجائے اس کے کہ صرف مقدمات کی تعداد نمٹانے کو ترجیح دی جائے۔

ان کے مطابق اصل انصاف کا پیمانہ فیصلوں کی تعداد نہیں بلکہ ان کی غیر جانبداری، شفافیت اور قانونی منطق کی گہرائی ہے۔

انہوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ فیسوں میں حالیہ اضافے کا دوبارہ جائزہ لے اور اسے واپس لے تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو اور آئین میں درج سستے، فوری اور بلا رکاوٹ انصاف کی فراہمی کے وعدے پر عمل ہو سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سپریم کورٹ سپریم کورٹ بار میاں محمد رؤف عطا ایڈووکیٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ سپریم کورٹ بار میاں محمد رؤف عطا ایڈووکیٹ سپریم کورٹ بار فیسوں میں

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالیں غیر قانونی قرار؛ وفاقی آئینی عدالت کا حکم
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟