WE News:
2026-07-24@13:46:25 GMT

پی آئی اے کی نجکاری اور سماجی و معاشی روٹس کا مستقبل

اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT

پی آئی اے کی نجکاری اور سماجی و معاشی روٹس کا مستقبل

گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر برائے نجکاری، مسٹر عبدالعلیم خان نے ایک اہم پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ حکومت تقریباً 8 مختلف سرکاری اداروں کو نجکاری کی فہرست میں شامل کر چکی ہے، جن میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) بھی شامل ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب قومی ایوی ایشن پالیسی میں ’سماجی و معاشی روٹ (socio economic routes)کا مستقبل جو پہلے ہی غیر یقینی کا شکار ہے، ایک مرتبہ پھر خدشات کے دھانے پر آ گیا۔

بغیر socio eco پالیسی کے پی آئی اے  کی نجکاری کا فیصلہ نہ صرف مالی اور انتظامی پہلوؤں سے اہمیت رکھتا ہے، بلکہ ملک کے دور دراز اور مشکل رسائی والے علاقوں کی فضائی رابطہ کاری پر بھی براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر پی آئی اے کا انتظام نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا تو کیا یہ روٹس برقرار رہیں گے یا پھر منافع نہ ہونے کے باعث ختم کر دیے جائیں گے؟

پالیسی کا بنیادی ڈھانچہ — وعدے کاغذ تک محدود:

پاکستان کی قومی ایوی ایشن پالیسی میں ایک اہم مگر بار بار نظرانداز ہونے والا پہلو ’سماجی و معاشی روٹس‘ ہیں۔ یہ وہ فضائی راستے ہیں جو ملک کے انتہائی دور دراز اور دشوار گزار علاقوں — اسکردو، گلگت، چترال، سوات، گوادر اور بلوچستان کے ساحلی شہروں کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑتے ہیں۔

پالیسی میں یہ واضح شرط رکھی گئی تھی کہ ملکی ایئرلائنز اپنی گنجائش کا کم از کم ایک مخصوص حصہ یعنی 10 فیصد پرائمری روٹس پر اور 5 فیصد سماجی و معاشی روٹس پر استعمال کریں گے۔

دراصل یہ روٹس نہ صرف سیاحتی اور تجارتی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ ان علاقوں کے لیے زندگی کی شہ رگ ہیں، خاص طور پر برفباری یا طویل زمینی فاصلوں کے باعث یا زمینی سفر متاثر ہونے کی صورت میں یہ روٹس بہت زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

2019 کی پالیسی — ایک ادھورا وعدہ؛

2019 کی قومی ایوی ایشن پالیسی میں تجویز دی گئی تھی کہ غیر منافع بخش مگر اہم روٹس کو مراعات اور مالی معاونت دی جائے۔ مسودے میں کہا گیا تھا کہ ایسے روٹس پر پرواز کرنے والے آپریٹرز کو آپریشنل ٹیکسز اور چارجز میں رعایت دی جائے، اور حکومت یا پی سی اے اے ایک باقاعدہ نظام کے تحت ایئرلائنز کو ادائیگی کرے۔

تاہم یہ معاوضہ اسکیم حتمی پالیسی میں شامل نہ ہو سکی اور نہ ہی اس پر عملدرآمد ہوا، جس کے نتیجے میں پی آئی اے اور دیگر چند ایئرلائنز کو ان روٹس پر مالی نقصان کے باوجود سروس جاری رکھنی پڑی۔

2024 کی پالیسی — خاموشی یا غفلت؟

قومی ایوی ایشن پالیسی 2024 میں سماجی و معاشی روٹس کے معاوضے کے حوالے سے کوئی واضح عوامی اپ ڈیٹ موجود نہیں۔ اگرچہ 2024 کے آخر میں کابینہ نے بعض پالیسی حصوں میں نرمی کرتے ہوئے سیرین ایئر اور ایئر بلیو کو بین الاقوامی پروازیں شروع کرنے کی اجازت دی، مگر سماجی و معاشی روٹس کے لیے سبسڈی یا قانونی ذمہ داری پر خاموشی برقرار رہی۔

نجکاری کے بعد کیا ہوگا؟

نجکاری کے بعد نجی سرمایہ کار تجارتی منافع کو ترجیح دیں گے، اور غیر منافع بخش روٹس عموماً ان کے بزنس ماڈل میں شامل نہیں ہوتے۔ اگر پالیسی میں مضبوط قانونی شق نہ ہوئی تو:

ان روٹس پر پروازیں کم یا بند ہو جائیں گی۔ مقامی آبادی سیاحت اور تجارت کے مواقع سے محروم ہو جائے گی۔ ہنگامی طبی سہولتوں اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں مشکلات پیدا ہوں گی۔ بین الاقوامی ماڈلز کیا کہتے ہیں؟

آسٹریلیا، کینیڈا اور یورپی یونین میں Public Service Obligation (PSO) پروگرام نافذ ہے، جس کے تحت حکومت نجی ایئرلائنز کو سبسڈی دیتی ہے، اور یہ قانون کے تحت لازمی ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس نوعیت کا کوئی مؤثر قانونی ڈھانچہ نہیں۔

سفارشات:

سماجی و معاشی روٹس کو قانونی لازمی خدمت کا درجہ دیا جائے۔

شفاف سبسڈی اسکیم بنائی جائے جو نجکاری کے بعد بھی برقرار رہے۔

بجٹ میں اس مقصد کے لیے مستقل فنڈ مختص ہو اور سالانہ عوامی رپورٹ شائع ہو۔

نجکاری معاہدے میں لازمی شق رکھی جائے کہ خریدار یہ روٹس برقرار رکھے، بصورت دیگر جرمانہ ہو۔

2019 میں جو وعدہ کاغذ پر کیا گیا، وہ کبھی حقیقت نہ بن سکا۔ 2024 کی پالیسی نے بھی اس خامی کو برقرار رکھا۔ اگر نجکاری سے قبل مضبوط قانونی و مالی تحفظات شامل نہ کیے گئے تو شمالی اور ساحلی علاقوں کے عوام فضائی تنہائی کا شکار ہو جائیں گے۔

یہ صرف ایک پالیسی کی ناکامی نہیں، بلکہ قومی یکجہتی اور علاقائی ترقی پر کاری ضرب ہوگی۔ظرورت اس امر کی ہے کہ اس confusion کو فوری طور پر ختم کر کے ایک پالیسی مرتب کی جائے۔

تحریر: عبید الرحمٰن عباسی

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبید الرحمان عباسی

مصنف سابق سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسلام آباد میں مقیم ایوی ایشن اینڈ انٹرنیشنل لاء کنسلٹنٹ ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

ایوی ایشن پی آئی اے نجکاری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایوی ایشن پی ا ئی اے نجکاری سماجی و معاشی روٹس پالیسی میں پی آئی اے روٹس پر یہ روٹس کے لیے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے،بلاول بھٹو
  • سائوتھ ایئر کا نجی ایئر فیلڈز پر کمرشل پروازوں کا اجازت نامہ منسوخ
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش