پنجاب پولیس کو سنگین جرائم میں مطلوب ملزم کوئٹہ ایئرپورٹ سے دبئی جاتے ہوئے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
کراچی:
ایف آئی اے امیگریشن نے کوئٹہ ایئرپورٹ پر کارروائی کے دوران پنجاب پولیس کو سنگین جرائم میں مطلوب بدنام زمانہ ملزم کو دبئی جاتے ہوئے گرفتار کرلیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق امیگریشن کے کوئٹہ ائیرپورٹ پر تعینات عملے نے کارروائی کے دوران سنگین جرائم میں مطلوب ملزم کی بیرون فرار کی کوشش ناکام بنائی۔
ملزم محمد طاہر نے دبئی فرار ہونے کی کوشش کی، گرفتار ملزم پنجاب پولیس کو مطلوب تھا، ملزم کے خلاف تھانہ محمد پور، راجن پور میں قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا۔
ملزم کے خلاف مختلف تھانوں میں متعدد مقدمات درج ہیں۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم کا نام اسٹاپ لسٹ میں شامل تھا جسے بعد ازاں ایف آئی اے امیگریشن نے پنجاب پولیس کے حوالے کردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پنجاب پولیس ایف آئی اے
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘