والد کے حج کی رقم آن لائن ٹریڈنگ میں ضائع ہونے پر ڈکیتی ڈرامے کا ڈراپ سین
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
لاہور:
والد کے حج کی رقم کو آن لائن ٹریڈنگ میں ضائع کرنے کے بعد ڈکیتی کا ڈراما رچانے کا پول کھل گیا۔
پولیس کے مطابق گلبرگ کے علاقے میں ڈکیتی کی جھوٹی کال کا ڈراپ سین ہوگیا، جس میں باپ کے حج کے لیے آئے 15 لاکھ روپے آن لائن ٹریڈنگ میں ضائع ہونے پر ملزم نے ڈکیتی کی جھوتی کال چلائی تھی۔
ایس ایچ او گلبرگ تیمور عباس خان نے بتایا کہ ملزم نے ون فائیو پر کال کی کہ ملزمان اسلحہ کے زور پر اس کی گاڑی اور 15 لاکھ روپے چھین کر فرار ہو گئے ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق عبیداللہ کے بھائیوں عمر اور عبداللہ نے اپنے والد کے حج کے لیے ئے 15 لاکھ روپے بھجوائے تھے۔ ملزم عبیداللہ سے رقم آن لائن ٹریڈنگ میں ضائع ہوئی۔ پولیس نے سب انسپکٹر سعد افتخار کی مدعیت ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، جس کے بعد گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آن لائن ٹریڈنگ میں ضائع
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔