اسلام آباد: یوم آزادی اور معرکہ حق کی مرکزی تقریب میں ترکیہ اور آذربائیجان کی مسلح افواج کا دستہ بھی شریک
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
اسلام آباد: یوم آزادی اور معرکہ حق کی مرکزی تقریب میں ترکیہ اور آذربائیجان کی مسلح افواج کا دستہ بھی شریک WhatsAppFacebookTwitter 0 13 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )اسلام آباد کے جناح اسپورٹس کمپلیکس میں یومِ آزادی اورمعرکہ حق کی فتح کی تقریب میں برادر اسلامی ملک ترکیہ اور آذربائیجان کی مسلح افواج کا دستہ بھی شریک ہوا۔جناح اسپورٹس کمپلیکس میں یومِ آزادی اورمعرکہ حق کی فتح کی تقریب جاری ہے۔تقریب میں صدرمملکت آصف علی زرداری، وزیرِاعظم شہباز شریف اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان شریک ہیں۔اسلام آباد: یوم آزادی اور معرکہ حق کی مرکزی تقریب میں ترکیہ اور آذربائیجان کی مسلح افواج کا دستہ بھی شریک
تقریب میں وفاقی کابینہ کے ارکان، قومی اسمبلی اورسینیٹ ارکان اوردوست ممالک کے سفرا بھی شریک ہیں۔یومِ آزادی اور معرکہ حق کی فتح کی تقریب میں بڑی تعداد میں شہری بھی شریک ہیں۔تقریب میں ترکیہ اور آذربائیجان کی مسلح افواج کے دستوں نے مارچ پاسٹ کیا۔ دونوں برادر ممالک کی افواج کے دستے سلامی کے چبوترے سے گزرے تو عوام کی جانب سے بھی ان کا بھر پور استقبال کیا گیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجناح اسپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں یومِ آزادی اور معرکہ حق کی مرکزی تقریب جاری،وزیر اعظم کا راکٹ فورس کی تشکیل کا اعلان جناح اسپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں یومِ آزادی اور معرکہ حق کی مرکزی تقریب جاری،وزیر اعظم کا راکٹ فورس کی تشکیل کا اعلان قومی اسمبلی: فورسز کو 3 ماہ کیلئے مشکوک شخص کی گرفتاری کا اختیار دینے کا بل منظور پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری کی جیل میں طبیعت بگڑ گئی، اسپتال منتقل.پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں گرما گرمی، تلخ جملوں کا تبادلہ یاسمین راشد کی 9 مئی مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں خارج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے آذربائیجان کے چیف آف جنرل سٹاف کی ملاقات
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تقریب میں ترکیہ اور آذربائیجان کی مسلح افواج آزادی اور معرکہ حق کی مرکزی تقریب اسپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں یوم
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.