یومِ آزادی اور معرکۂ حق کی یاد میں رنگا رنگ تقریب، قوم دہری خوشی میں سرشار
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
اسلام آباد – پاکستان کے 77ویں یومِ آزادی اور بھارت کے خلاف معرکۂ حق میں فتح کی خوشی میں جناح اسپورٹس اسٹیڈیم، اسلام آباد میں ایک شاندار مرکزی تقریب منعقد ہوئی، جس میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔
تقریب میں **وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، اہم قومی رہنما اور غیر ملکی مہمان بھی شریک ہوئے۔مسلح افواج کی جانب سے شاندار پریڈ اور فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیاجائے گا جبکہ وزیراعظم نے معرکۂ حق کی یادگار کی نقاب کشائی بھی کریں گے
یہ تقریب نہ صرف یومِ آزادی کی خوشی بلکہ حالیہ بھارتی جارحیت کے خلاف تاریخی فتح کے جشن کی علامت بنی۔ ملک بھر میں جشن کا سماں ہے، ہر گلی، محلہ اور شہر سبز ہلالی پرچموں سے جگمگا رہا ہے ۔
اسلام آباد کے شکر پڑیاں پریڈ گراؤنڈمیں عوام کے لیے ایک خصوصی نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا، جس میں معرکۂ حق میں استعمال ہونے والے جنگی طیارے، ٹینک، توپیں، ریڈارز اور دیگر عسکری سازوسامان** نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔
یہ جشن نہ صرف ماضی کی قربانیوں کو خراجِ تحسین ہے بلکہ مستقبل کی امید، اتحاد اور خوداری کا مظہر بھی ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی نے ایک متفقہ قراردادکے ذریعے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ملکی سلامتی، خودمختاری اور اتحاد کے عزم کا اعادہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔