چیف جسٹس پاکستان کا جسٹس منصور کو بھیجا گیا جوابی خط پہلی بار منظر عام پر
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کا جسٹس منصور علی شاہ کو بھیجا گیا جوابی خط منظر عام پر آگیا۔
تفصیلات کے مطابق ججز کمیٹیوں کے 31 اکتوبر 2024 سے 29 مئی 2025 تک کے اجلاس کے منٹس پبلک کردیے گئے ہیں، اس کے علاوہ چیف جسٹس آف پاکستان کا جسٹس منصور کو بھیجا گیا جوابی خط بھی منظر عام پر آگیا.جوابی خط جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کے 31 اکتوبر کے اجلاس پر لکھا گیا۔دونوں ججوں نے 26 ویں ترمیم فل کورٹ کے سامنے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا.
اس کے علاوہ 26 نومبر 2024 کے ججز ریگولر کمیٹی اجلاس اور ٹیکس کیس سے متعلق ججز کمیٹی کے میٹنگ منٹس جاری کردیئے گئے، 17 جنوری 2025کے ریگولر ججز کمیٹی اجلاس میں جسٹس امین الدین، رجسٹرار شریک ہوئے.چیف جسٹس کی سربراہی میں اجلاس میں پرائیویٹ سیکرٹری کے ذریعے جسٹس منصور علی شاہ کو آگاہ کیا۔جسٹس منصور علی شاہ نے آگاہ کیا کہ وہ دستیاب نہیں اور اپنی رائے 13 اور 16 جنوری کو دے چکے. یہ رائے جسٹس منصور نے ٹیکس کیس میں آئینی تشریح کوآئینی بینچ کے بجائے ریگولر بینچ بھی سننے پر دی تھی۔چیف جسٹس نے کہا ٹیکس مقدمات پر سماعت 13 جنوری کو ریگولر بینچ میں ہوئی تھی جو 27 جنوری تک ملتوی کی گئی، اور یہ حکم ویب ماسٹر کو موصول ہوا تھا. اسی تناظر میں ویب ماسٹر کو دوسرا آرڈر موصول ہوا .جس میں کہا گیا اگلی سماعت 16جنوری کو ہوگی۔اجلاس میں دو ممبران کی اکثریت سے فیصلہ کیا گیا کہ کیس ریگولر بینچ کے بجائے آئینی بینچ میں منتقل کیا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جسٹس منصور علی شاہ گیا جوابی خط چیف جسٹس
پڑھیں:
: نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
سٹی 42: نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کرغز جمہوریہ میں شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے اجلاس کے کامیاب انعقاد پر کرغز قیادت اور وزیر خارجہ ژین بیک کلوبائیف کا شکریہ ادا کیا۔ایس سی او کے 25 سال مکمل ہونے پر اسحاق ڈار کی رکن ممالک کو مبارکباد، تنظیم کے کردار کو سراہا۔ اسحاق ڈار نے کہا پاکستان شنگھائی اسپرٹ، علاقائی تعاون، رابطہ کاری اور مشترکہ ترقی کے لیے پرعزم ہے۔
روس کا سب سے جدید اور خطرناک جنگی طیارہ گر کر تباہ
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے اسلام آباد مذاکرات اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو پاکستان کی امن و سفارتکاری کی کوششوں کی مثال قرار دیا،ایس سی او وزرائے خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا، اسحاق ڈار نے کہا پاکستان ستمبر 2026 میں ایس سی او سربراہان کونسل کی چیئرمین شپ سنبھالنے کے لیے تیار ہے ۔
اسحاق ڈار نے 2027 میں ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے تمام رکن ممالک کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔
رانا ثنا اور امیر مقام کی برطانوی بزنس مین سے ملاقات، راجہ وسیم نے غلاف کعبہ بطور تحفہ پیش کیا