جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2018 میں شمالی کوریا کے ساتھ ہونے والے فوجی معاہدے کو بحال کریں گے، جس کا مقصد دونوں ممالک کی سرحد پر کشیدگی کم کرنا تھا۔

یہ اعلان جمعہ کو جاپانی تسلط سے کوریا کی آزادی کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر تقریر کے دوران کیا گیا۔

 یہ بھی پڑھیں:شمالی کوریا کا امریکا اورجنوبی کوریا کی فوجی سرگرمیوں سے قبل طاقت کا مظاہرہ

یہ معاہدہ، جسے 19 ستمبر کا جامع فوجی معاہدہ کہا جاتا ہے، دونوں کوریاؤں کے درمیان فوجی اعتماد سازی اور حادثاتی جھڑپوں سے بچاؤ کے لیے کیا گیا تھا، لیکن بعد میں شمالی کوریا نے اسے ختم کر دیا تھا۔

سابق صدر یون سک یول نے 2024 میں اسے مکمل طور پر معطل کر دیا تھا، جب شمالی کوریا نے سینکڑوں کوڑا کرکٹ بھرے غبارے جنوبی کوریا بھیجے تھے۔

صدر لی نے کہا کہ ان کی حکومت کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم ہے، جس میں سرحد پر لاؤڈ اسپیکر پروپیگنڈا ختم کرنا اور مخالفانہ پمفلٹ بھیجنے والے غباروں کو روکنا شامل ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ جنوبی کوریا کا شمالی کوریا کو اپنے ساتھ ضم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ پیونگ یانگ کے نظامِ حکومت کا احترام کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی مفاہمت کی کوششیں مسترد کر دیں

انہوں نے امید ظاہر کی کہ شمالی کوریا بھی اعتماد سازی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے مثبت جواب دے گا۔

لی نے یہ بھی کہا کہ وہ عالمی برادری کے تعاون اور امریکا کے ساتھ مکالمے کے ذریعے شمالی کوریا کے پرامن ایٹمی خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ

جاپان سے تعلقات کے بارے میں صدر لی کا کہنا تھا کہ یہ تعلقات ماضی کے تنازعات سے آگے بڑھ کر حقیقت پسندانہ سفارت کاری اور قومی مفاد پر مبنی ہونے چاہییں۔

وہ 23 اگست کو جاپان کا دورہ کریں گے جہاں وزیراعظم شیگیرو ایشیبا سے ملاقات کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا جنوبی کوریا شمالی کوریا صدر لی جے میونگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا جنوبی کوریا شمالی کوریا صدر لی جے میونگ شمالی کوریا جنوبی کوریا کوریا کے صدر لی کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی