موڈیز کی ریٹنگ اپ گریڈ سے پاکستان کی معیشت پر عالمی اعتماد میں اضافہ WhatsAppFacebookTwitter 0 15 August, 2025 سب نیوز

اسلام آباد:(آئی پی ایس)
ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے پاکستان کی معیشت پر عالمی اعتماد بحال ہونے لگا، بین الاقوامی ریٹنگ کمپنی ’’موڈیز‘‘ نے پاکستان کی کرنسی ریٹنگ کو اَپ گریڈ کر دیا۔

پاکستان کی مقامی و غیر ملکی کرنسی ریٹنگ Caa2 سے بڑھا کر Caa1 کی گئی۔ موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ آؤٹ لک ’’مثبت‘‘ سے بڑھ کر ’’مستحکم‘‘ قرار دے دی گئی۔

بیرونی ذخائر میں بہتری اور قرض ادائیگی کی صلاحیت پر اعتماد میں اضافہ ہوا۔

آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی استحکام اور اصلاحاتی اقدامات میں پیش رفت کا اعتراف کیا گیا، حالیہ اَپ گریڈ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافے اور ٹیکس دائرہ کار وسیع کرنے کی صلاحیت پر اعتماد کا عکاس ہے۔

ایس آئی ایف سی کی پالیسیوں سے پاکستان کی عالمی ساکھ مضبوط اور معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگلگت بلتستان میں گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کی وارننگ، سیلاب کا سنگین خطرہ ڈیزل کی قیمت میں 11.

50روپے فی لیٹر تک کی کمی، پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان ایوان صدر میں سول و عسکری شخصیات کو اعلیٰ اعزازت دینے کی تقریب سبز رنگ، مستقبل کی ترقی کا بنیادی رنگ سبز چین نے انسانی ترقی کے اہم سوال  کا جواب  دیا ہے، سی جی ٹی این سروے بلاول بھٹو زرداری کو نشانِ پاکستان دینے کا فیصلہ صدر ایف پی سی سی آئی کی قوم کو 78 ویں یوم آزادی کی مبارکباد TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سے پاکستان کی

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران مذاکرات میں تعطل کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے پر عزم ہیں،وزیراعظم
  • مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ،حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم
  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ