پاکستان اور مائیکرونیشیا میں سفارتی تعلقات قائم، دو طرفہ تعاون کے نئے دور کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان اور مغربی بحرالکاہل میں واقع جزیرہ نما ملک ریاستہائے مائیکرونیشیا نے باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات قائم کر لیے ہیں، جس کے ساتھ ہی دونوں ممالک نے باہمی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز کر دیا۔
اقوام متحدہ کی ویب سائٹ کے مطابق مائیکرونیشیا 1991 میں اقوام متحدہ کا رکن بنا تھا۔ نیویارک میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد اور مائیکرونیشیا کے مستقل مندوب سفیر جیم ایس لپوے نے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے، جس کے ذریعے تعلقات کو باضابطہ شکل دی گئی۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اس موقع پر کہا کہ یہ تعلقات انسانی وسائل کی ترقی، استعداد کار میں اضافے اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے اہم شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع فراہم کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک اقوام متحدہ میں اہم عالمی امور، خصوصاً بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے قریبی تعاون کریں گے۔ سفیر نے اس پیشرفت کو پاکستان کی یوم آزادی کے موقع پر ایک خوش آئند سنگ میل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ مائیکرونیشیا، پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والا 100واں ملک ہے۔
Highlights of the ceremony marking the establishment of the formal diplomatic relations between Pakistan and the Federated States of Micronesia.
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) August 14, 2025
سفیر جیم ایس لپوے نے دوستی کے اس نئے باب پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی ہم منصب کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔ تقریب سے قبل دونوں سفیروں کے درمیان ایک مختصر ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور ممکنہ دو طرفہ منصوبوں پر بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جادون سمیت دونوں ممالک کے سفارتکار موجود تھے۔
Press Release
Pakistan and Federated States of Micronesia Establish Diplomatic Relations
New York, August 14, 2025: Pakistan and Federated States of Micronesia, an island nation located in the western Pacific Ocean, established diplomatic relations at a ceremony in New York… pic.twitter.com/iKgbK85MMh
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) August 14, 2025
واضح رہے کہ دسمبر 2024 میں پاکستان نے بحرالکاہل کے چھوٹے جزیرہ نما ممالک کے اتحاد میں شمولیت اختیار کی تھی، جو فوسل فیول کے منصفانہ خاتمے اور تیل، گیس و کوئلے کی پیداوار کے خطرات سے بچاؤ کے لیے عالمی سطح پر انصاف پر مبنی منتقلی کی مالی اعانت کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہے۔
پاکستان، جنوبی ایشیا کا پہلا ملک تھا جس نے اس اتحاد کے ساتھ مشاورت کی تاکہ فوسل فیول ٹریٹی کے مجوزہ خاکے کو سمجھا جا سکے، جس کا مقصد ایندھن کی پیداوار کو بتدریج اور منصفانہ انداز میں ختم کرنا ہے۔ اس 16 رکنی اتحاد میں وانواتو، تووالو، ٹونگا، فجی، سلیمان جزائر، نیو، اینٹیگا و باربودا، تیمور لیستے، پلاؤ، کولمبیا، ساموا، ناؤرو، مارشل جزائر، ریاستہائے مائیکرونیشیا، پاکستان اور بہاماس شامل ہیں۔
Post Views: 6
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغز جمہوریہ کے خوبصورت شہر چولپون آتا میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کونسل برائے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے علاقائی امن، استحکام، رابطہ کاری اور مشترکہ ترقی کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق سینیٹر اسحاق ڈار نے اجلاس کی میزبانی پر کرغز قیادت اور وزیر خارجہ ژین بیک کولوبایف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شاندار انتظامات کو سراہا۔
https://x.com/ForeignOfficePk/status/2080577745026007042
اپنے خطاب میں نائب وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کی 25ویں سالگرہ پر رکن ممالک کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ایس سی او گزشتہ پچیس برس کے دوران خطے میں امن، سلامتی، خوشحالی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان تعاون، روابط اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے اپنی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
اسحاق ڈار نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا، جن میں اسلام آباد مذاکرات اور اس کے نتیجے میں طے پانے والا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیںمسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، اسحاق ڈار کا آسیان فورم سے خطاب
انہوں نے اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔
وزیر خارجہ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ پاکستان ستمبر 2026 میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی سربراہی سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے تمام رکن ممالک کو 2027 میں پاکستان میں منعقد ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں