اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان اور مغربی بحرالکاہل میں واقع جزیرہ نما ملک ریاستہائے مائیکرونیشیا نے باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات قائم کر لیے ہیں، جس کے ساتھ ہی دونوں ممالک نے باہمی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز کر دیا۔

اقوام متحدہ کی ویب سائٹ کے مطابق مائیکرونیشیا 1991 میں اقوام متحدہ کا رکن بنا تھا۔ نیویارک میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد اور مائیکرونیشیا کے مستقل مندوب سفیر جیم ایس لپوے نے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے، جس کے ذریعے تعلقات کو باضابطہ شکل دی گئی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اس موقع پر کہا کہ یہ تعلقات انسانی وسائل کی ترقی، استعداد کار میں اضافے اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے اہم شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع فراہم کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک اقوام متحدہ میں اہم عالمی امور، خصوصاً بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے قریبی تعاون کریں گے۔ سفیر نے اس پیشرفت کو پاکستان کی یوم آزادی کے موقع پر ایک خوش آئند سنگ میل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ مائیکرونیشیا، پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والا 100واں ملک ہے۔

Highlights of the ceremony marking the establishment of the formal diplomatic relations between Pakistan and the Federated States of Micronesia.

@FSMMission_UN@micundiplomat@PakistanPR_UN@Asimiahmad pic.twitter.com/31ARNMvuLO

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) August 14, 2025


سفیر جیم ایس لپوے نے دوستی کے اس نئے باب پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی ہم منصب کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔ تقریب سے قبل دونوں سفیروں کے درمیان ایک مختصر ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور ممکنہ دو طرفہ منصوبوں پر بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جادون سمیت دونوں ممالک کے سفارتکار موجود تھے۔

Press Release

Pakistan and Federated States of Micronesia Establish Diplomatic Relations

New York, August 14, 2025: Pakistan and Federated States of Micronesia, an island nation located in the western Pacific Ocean, established diplomatic relations at a ceremony in New York… pic.twitter.com/iKgbK85MMh

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) August 14, 2025


واضح رہے کہ دسمبر 2024 میں پاکستان نے بحرالکاہل کے چھوٹے جزیرہ نما ممالک کے اتحاد میں شمولیت اختیار کی تھی، جو فوسل فیول کے منصفانہ خاتمے اور تیل، گیس و کوئلے کی پیداوار کے خطرات سے بچاؤ کے لیے عالمی سطح پر انصاف پر مبنی منتقلی کی مالی اعانت کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہے۔

پاکستان، جنوبی ایشیا کا پہلا ملک تھا جس نے اس اتحاد کے ساتھ مشاورت کی تاکہ فوسل فیول ٹریٹی کے مجوزہ خاکے کو سمجھا جا سکے، جس کا مقصد ایندھن کی پیداوار کو بتدریج اور منصفانہ انداز میں ختم کرنا ہے۔ اس 16 رکنی اتحاد میں وانواتو، تووالو، ٹونگا، فجی، سلیمان جزائر، نیو، اینٹیگا و باربودا، تیمور لیستے، پلاؤ، کولمبیا، ساموا، ناؤرو، مارشل جزائر، ریاستہائے مائیکرونیشیا، پاکستان اور بہاماس شامل ہیں۔

Post Views: 6

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تعاون کے کے ساتھ

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • چیئرمین سینیٹ سے اٹالین سفیر کی غیر رسمی ملاقات ،دونوںملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
  • پی سی بی کا چاچا کرکٹ کیلیے یادگاری تحفہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ