سردارایازصادق کا خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں سیلابی ریلے سے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 اگست2025ء) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع خصوصاََ ضلع بونیر میں سیلابی ریلے سے 78 اور صوبے بھر میں کل 146 افراد کے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔
(جاری ہے)
جمعہ کو اپنے ایک تعزیتی بیان میں انہوں نےکہا کہ خیبرپختونخوا میں طوفانی بارشوں کے باعث مختلف سانحات میں 146 قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دل رنجیدہ ہے، مشکل وقت میں خیبرپختونخوا کی عوام اور حکومت سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں، مختلف سانحات میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں۔
سپیکر نے کہا کہ متاثرین کے کرب اور مشکلات کا مکمل ادراک ہے، مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کی مدد کی ضرورت ہے، عوام بالخصوص نوجوان متاثرین کی مدد کیلئے امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، مشکل وقت میں خیبرپختونخوا کی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ غمزدہ خاندانوں کو صبر و حوصلہ دے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :