جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ نے بچوں اور بڑوں دونوں میں یکساں طور پر مقبول گانے ’بے بی شارک‘ کا برسوں پرانا کاپی رائٹ کیس کا فیصلہ سنادیا۔

اس نغمے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اسے یوٹیوب پر سب سے زیادہ سنے جانے والا گانا بھی کہا جاسکتا ہے جس کے ویوز اربوں ہیں۔

امریکی گیت نگار جوناتھن رائٹ دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے 2019ء میں یہ گیت تخلیق کیا تھا اس لیے کاپی رائٹ ان کا ہے۔ جس کے بعد ایک قانونی جنگ چھڑ گئی تھی۔

دوسری جانب کاپی رائٹ رکھنے والی پنگ فانگ نے اس نغمے کارٹون ورژن 2015ء اور 2016ء میں ریلیز ہوا جو دنیا بھر میں بچوں کا ترانہ بن گیا۔

یہاں تک کہ اس پر بے بی شارک ڈانس چیلنج بھی دنیا بھر میں مشہور ہو گیا اور یہ 30 ملین ڈالر سے زیادہ کا بزنس بھی کرگیا تھا۔

تاحال یہ نغمہ تروتازہ ہے اس کی مقبولیت جوں کی توں برقرار ہے بلکہ اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ نسلوں کا گیت بن گیا اور اب بھی روزانہ لاکھوں بار سنا جاتا ہے۔

کاپی رائٹ کیس عدالت میں برسوں چلتا رہا اور آج تمام تر دلائل اور شواہد کی روشنی میں سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنادیا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں امریکی گیت نگار کے نغمے کے تخلیق کار ہونے کے دعویٰ کو مسترد کردیا۔

عدالت نے کہا کہ بے بی شارک ایک پرانا لوک گیت ہے جس کے مختلف ورژنز پہلے سے ہی موجود تھے۔

جنوبی کوریا کے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نہ صرف کمپنی پنگ فانگ بلکہ گانے کے مداحوں نے بھی سکون کا سانس لیا۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کاپی رائٹ

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی