اٹلی کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 27 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 15 اگست 2025ء) پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے تصدیق کی ہے کہ اٹلی کے جنوب میں واقع جزیرے لیمپیڈوسا کے قریب کشتی الٹنے سے 27 تارکین وطن اور پناہ گزین ہلاک ہو گئے ہیں۔
'یو این ایچ سی آر' اس حادثے میں زندہ بچ جانے والے 60 افراد کو ضروری مدد فراہم کر رہا ہے۔ اٹلی کی کوسٹ گارڈ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق کشی پر سوار لوگ لیبیا سے آ رہے تھے اور ان کی منزل اٹلی تھا۔
افریقہ کے ساحل سے اٹلی کا سفر اختیار کرنے والے تارکین وطن اور پناہ گزین عام طور پر خستہ حال کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں جن میں گنجائش سے کہیں زیادہ لوگوں کو بٹھایا جاتا ہے۔
(جاری ہے)
ان لوگوں کو انسانی سمگلر بحیرہ روم کے اس خطرناک سمندری راستے سے یورپ کی طرف بھیجتے ہیں جن میں بیشتر کی ابتدائی منزل لیمپیڈوسا ہوتا ہے۔
محفوظ مہاجرت پر زورپناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں بتایا ہے کہ رواں سال وسطی بحیرہ روم کے راستے یورپ تک پہنچنے کی کوشش میں 700 سے زیادہ تارکین وطن اور پناہ کے خواہش مند لوگوں کی ہلاکت ہو چکی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر قابو پانے اور زندگیوں کو تحفظ دینے کے لیے سمندر میں بچاؤ کی کارروائیوں کو بہتر بنانا، لوگوں کو مہاجرت کے محفوط راستے مہیا کرنا اور پناہ گزینوں کی عبوری منازل سمجھے جانے والے ممالک کو اس مسئلے سے نمٹنے میں مدد دینا ضروری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تارکین وطن اور پناہ
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔