صنم سعید کا ’لڑکی کم لڑکا زیادہ‘ تبصرے پر پروین اکبر کو طنزیہ جواب
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ صنم سعید نے سینئر فنکارہ پروین اکبر کے ایک حالیہ تبصرے پر طنزیہ انداز میں ردعمل دیا، جو سوشل میڈیا پر خوب چرچا بن گیا۔
چند روز قبل ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران پروین اکبر نے صنم سعید کی تعریف کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ’’وہ مجھے لڑکی کم اور لڑکا زیادہ لگتی ہیں، گویا ایک ٹام بوائے کی طرح‘‘۔ یہ بیان تیزی سے وائرل ہوا اور مداحوں کے درمیان بحث کا موضوع بن گیا۔
اسی پس منظر میں صنم سعید نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر ایک نیا اصطلاحی لفظ ’’آنٹی پرینیور‘‘ شیئر کیا، جو دراصل ’’آنٹی‘‘ اور ’’انٹرپرینیور‘‘ کو ملا کر بنایا گیا ہے۔ اس کا مطلب انہوں نے یوں بیان کیا: ’’ایسی بڑی عمر کی خاتون جو کسی دوسری عورت کی ذاتی زندگی یا کام میں بلا وجہ مداخلت کرے۔‘‘ اسٹوری کے ساتھ ایک خاتون کی تصویر بھی پوسٹ کی گئی۔
سوشل میڈیا صارفین نے فوراً اندازہ لگا لیا کہ یہ طنز کس کی طرف ہے۔ کسی نے لکھا، ’’یہ تو سیدھا آنٹی کو جواب دیا ہے‘‘، تو کسی نے کہا، ’’پروین اکبر کو فضول رائے نہیں دینی چاہیے تھی، صنم بہت گریس فل ہیں‘‘۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’آنٹی اس اسٹوری سے جل جائیں گی‘‘، جبکہ ایک فالوور نے تحریر کیا، ’’بہترین جواب، اور مجھے پتا ہے یہ کس کو کہا گیا‘‘۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پروین اکبر
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :