ہانیہ عامر دنیا کی خوبصورت ترین اداکاراؤں کی فہرست میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
پاکستان کی اداکارہ و ماڈل ہانیہ عامر 2025-2026 کیلئے دنیا کی 10 خوبصورت ترین اداکاراؤں کی فہرست میں شامل ہوگئیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں بےحد کم وقت میں مشہور ہونے والی اداکارہ ہانیہ عامر نے خوبصورتی میں ہالی ووڈ اسٹارز امبر ہرڈ اور ایما واٹسن کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
فلموں، ڈراموں اور ویب سیریز کو ریٹنگ دینے اور شوبز شخصیات کی رینکنگ پیش کرنے والی ویب سائٹ ’انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس‘ (آئی ایم بی ڈی) کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں ہانیہ عامر کو دنیا کی خوبصورت ترین اداکاراؤں میں چھٹا نمبر دیا گیا ہے۔
اس فہرست میں پہلے نمبر پر 35 سالہ آسٹریلوی اداکارہ مارگوٹ روبی، دوسرے نمبر پر امریکی اداکارہ شیلنی وڈلے تیسرے نمبر پر چینی اداکارہ دلرابا دلمورت، چوتھے نمبر پر کورین اسٹار نینسی مکڈونی پانچویں نمبر پر بھارتی اداکارہ کرتی سینن جبکہ چھٹے پر ہانیہ عامر شامل ہیں۔
ساتویں نمبر پر ہالی ووڈ اداکارہ اور ٹام کروز کی مبینہ گرل فرینڈ آنا دی آرمس، آٹھویں نمبر پر 35 سالہ اداکارہ و پروڈیوسر ایما واٹسن، نویں نمبر پر امبر ہرڈ اور دسویں نمبر پر 24 سالہ ترک اداکارہ و ماڈل ہاندے آرچل براجمان ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ہانیہ عامر فہرست میں
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔