راولپنڈی میں اب تک ڈینگی کے 85 کیسز رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
راولپنڈی ڈویژن میں 2025 میں اب تک ڈینگی کے 85 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ سال کے آج کے دن تک ڈینگی کیسز کی تعداد 85 کے برابر ہوچکی ہے۔
راولپنڈی میں 35، مری میں 42 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ مری میں ڈینگی بے قابو ہونے لگا ہے اور مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید برآں اٹک میں 4، چکوال میں 3، جہلم میں 1 ڈینگی مریض سامنے آئے ہیں۔ سال 2024 میں ڈویژن بھر میں 6869 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
محکمہ صحت کے مطابق راولپنڈی میں 2024 کے دوران سب سے زیادہ 6564 کیسز سامنے آئے،محکمہ صحت
ڈویژن میں 2025 کے دوران اب تک ڈینگی سے کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی ہے جبکہ اسپتالوں میں ڈینگی کے 9614 مشتبہ مریض رپورٹ ہوچکے ہیں۔
311 مریضوں میں ڈینگی کی تصدیق اور 15 مریضوں کو داخل کیا گیا ہے۔ مری میں 10 ڈینگی مریض اسپتالوں میں داخل کیے گئے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق لاروا کی موجودگی پر راولپنڈی میں 2440 ایف آئی آرز درج، 1112 مقامات سیل، 2819 چالان اور 4 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا جاچکا ہے۔
دوسری جانب مری میں 43 ایف آئی آرز 189 سیلنگ اور 730000 روپے جرمانہ عائد کیا جاچکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: راولپنڈی میں کیسز رپورٹ تک ڈینگی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔