UrduPoint:
2026-07-24@12:15:36 GMT

ٹرمپ پوٹن سمٹ دوستانہ ماحول میں، مگر سیزفائر ڈیل نہ ہو سکی

اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT

ٹرمپ پوٹن سمٹ دوستانہ ماحول میں، مگر سیزفائر ڈیل نہ ہو سکی

ٹرمپ پوٹن سمٹ دوستانہ ماحول میں، مگر سیزفائر ڈیل نہ ہو سکی الاسکا سربراہی ملاقات سے متعلق چند اہم ضمنی حقائق الاسکا سربراہی ملاقات سے متعلق چند اہم ضمنی حقائق ماسکو میں کریملن کی طرف سے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب جاری کردہ ایک بیان کے مطابق صدر پوٹن اور ان کے امریکی ہم منصب ٹرمپ کی امریکی ریاست الاسکا میں اینکریج کے مقام پر ایک ملٹری بیس پر ہونے والی ملاقات دو گھنٹے اور 45 منٹ تک جاری رہی اور اس میں اطراف کے وزرائے خارجہ اور سینیئر مشیر بھی موجود تھے۔

یہ صدارتی سمٹ فروری 2022ء میں یوکرین میں روسی فوجی مداخلت کے بعد سے آج تک ہونے والی امریکی اور روسی صدور کی پہلی براہ راست اور بالمشافہ ملاقات تھی۔

(جاری ہے)

اس سمٹ کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے روسی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے ہاتھ ملایا اور کہا کہ دونوں رہنما ’’جلد ہی پھر آپس میں بات کریں گے،‘‘ بلکہ ’’ہو سکتا ہے کہ دونوں جلد ہی آپس میں دوبارہ ملیں بھی۔

‘‘ امریکی صدر کے اس بیان پر روسی صدر پوٹن نے دوبارہ ملاقات کے امکان کے حوالے سے فوراﹰ کہا، ’’اگلی مرتبہ ماسکو میں۔‘‘ اس پر صدر ٹرمپ نے کہا، ’’یہ ایک دلچسپ خیال ہے۔ مجھے اس پر کچھ (سیاسی) تپش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن میں دیکھ سکتا ہوں کہ شاید ایسا ہو بھی سکتا ہے۔‘‘ اس ملاقات کے بعد دونوں صدور کے پاس چونکہ کسی بڑی پیش رفت کا اعلان کرنے کے لیے کچھ نہیں تھا، اس لیے دونوں نے ہی پریس کانفرنس کے دوران اپنے بیانات میں قدرے مبہم انداز گفتگو اختیار کیا اور عمومی امید پسندی کا اظہار کیا۔

اینکریج سمٹ سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ممکنہ طور پر دونوں صدور کی جمعے کی شام ہونے والی ملاقات کے بعد ایک ایسی سہ فریقی ملاقات بھی ہو سکتی ہے، جس میں یوکرینی صدر زیلنسکی بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ لیکن سمٹ کے بعد کی پریس کانفرنس میں فریقین کی طرف سے اس بارے میں کچھ نہ کہا گیا کہ آیا تینوں ممالک کے صدور کی ایسی کسی ممکنہ ملاقات کے بارے میں کوئی فیصلہ کن بات بھی ہوئی۔


ٹرمپ پوٹن سمٹ دوستانہ ماحول میں، مگر سیزفائر ڈیل نہ ہو سکی

امریکی صدر ٹرمپ اور روسی صدر پوٹن کی الاسکا میں جمعے کو ہوئی سربراہی ملاقات میں یوکرینی جنگ سے متعلق کوئی سیزفائر ڈیل نہ ہو سکی۔ طویل ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے کہا کہ دوستانہ ماحول میں یہ بات چیت تعمیری رہی۔

روس کی یوکرین میں فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی ریاست الاسکا میں اینکریجکے مقام پر ایک فوجی اڈے پر ہونے والی اس ٹرمپ پوٹن ملاقات سے دنیا کو کافی زیادہ امیدیں تھیں کہ اس میں شاید امریکی اور روسی سربراہان مملکت جنگ بندی کے کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچنے کا راستہ نکال لیں گے۔

سمٹ کے بعد 12 منٹ کی مشترکہ پریس کانفرنس

لیکن کئی گھنٹے طویل یہ ملاقات ایسی کسی بڑی پیش رفت کی وجہ نہ بن سکی۔ ملاقات کے بعد دونوں صدور نے 12 منٹ تک میڈیا کے نمائندوں سے مشترکہ گفتگو کی، جس میں انہوں نے اس ملاقات کو تعمیری قرار دیا۔ بعد میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یوکرینی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک دیرپا سیزفائر معاہدہ قدرے قریب ہے مگر اس سمٹ میں اس معاہدے تک پہنچا نہیں جا سکا۔

اپنی ملاقات کے بعد دونوں صدور نے میڈیا سے جو گفتگو کی، اس میں انہوں نے اپنی علیحدگی میں ہونے والی اس ملاقات کی زیادہ تفصیلات بیان نہ کیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمپر پوٹن نے بس اتنا کہا کہ انہوں نے کئی اہم نکات پر اتفاق کیا ہے۔ مگر یہ ’اہم نکات‘ کیا ہیں، ان کی بھی انہوں نے کوئی تفصیلات نہ بتائیں۔

اس پریس کانفرنس کے دوران موقع پر موجود صحافیوں کو کوئی سوال پوچھنے کی اجازت نہیں تھی۔

انہوں نے بس وہی کچھ سنا، جو صدر ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب نے کہا۔ نیٹو اور صدر زیلنسکی کی بریفنگ

اس پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ صدر پوٹن کے ساتھ اپنی بات چیت کے نتائج سے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی، یورپی یونین کے رہنماؤں اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے لیڈروں کو بریفنگ دیں گے۔

ساتھ ہی امریکی صدر نے کہا، ’’جب کوئی ڈیل ہو جائے گی، تب ہی کہا جا سکتا ہے کہ کوئی ڈیل ہو گئی ہے۔

حتمی طور پر یہ فیصلہ انہی کا ہو گا۔‘‘

اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں اور امریکی صدر ٹرمپ کی میزبانی میں، میڈیا نمائندوں سے مختصر خطاب میں پہل روسی صدر نے کی۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری یہ ملاقات بہت تعمیری رہی۔ اور کئی نکات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ صرف چند نکات ایسے ہیں، جن پر کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ ان میں سے بھی کچھ انتہائی اہم نہیں ہیں۔

‘‘

صدر ولادیمیر پوٹن نے مزید کہا، ’’اس ملاقات میں ہم نے مسٹر ٹرمپ کے ساتھ اچھے براہ راست رابطے قائم کر لیے ہیں۔‘‘

اس سمٹ کے بعد نشتریاتی ادارے فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا، ’’ہم یوکرین کے ساتھ روس کی جنگ میں ایک معاہدے کے بہت قریب ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے یوکرینی صدر زیلنسکی کو بھی کسی ممکنہ ڈیل پر آمادگی ظاہر کرنا ہو گی۔‘‘

ادارت: عاطف توقیر

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ملاقات کے بعد دونوں دوستانہ ماحول میں امریکی صدر ٹرمپ پریس کانفرنس سمٹ کے بعد ٹرمپ پوٹن ہونے والی اس ملاقات انہوں نے صدر پوٹن سکتا ہے کے ساتھ نے کہا کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل