Islam Times:
2026-07-24@09:18:04 GMT

کیا بین الاقوامی سطح پر یورپ بے بس ہورہا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT

کیا بین الاقوامی سطح پر یورپ بے بس ہورہا ہے؟

اسلام ٹائمز: یورپ کی تنہائی کی تشویش بالکل درست ہے اور یورپ خود کو بے بس محسوس کر رہا ہے اسی لیے یورپ اپنا دفاعی بجٹ بڑھا رہا ہے اور اس نے فوجیوں میں بھی اضافے کی کوششیں شروع کر دی ہیں مگر یورپ کے لوگ زیادہ ہی پر امن ہوگئے ہیں۔ جرمنی کو ڈیڑھ لاکھ فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے مگر کوئی بھی فوج میں بھرتی ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ یورپ پریشان نہ ہو اگر یورپ کو کوئی ایٹمی خطرہ پیش ہوا تو ہم یورپ کے لیے ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس 

ٹرمپ کے آنے سے امریکی خارجہ پالیسی ناقابل اعتبار ہو چکی ہے، کسی کو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ اگلے سال، مہینے یا ہفتے نہیں بلکہ دن کیا ہوگا؟ رات کو امریکی میڈیا کچھ اور خبریں چلا کر رائے عامہ کو ہمورا کرتا ہے اور صبح نیند سے جاگتے ہیں ناشتے کے ٹیبل سے ٹرمپ کا بیان ہر چیز کا رخ موڑ دیتا ہے۔ کسی تجزیہ نگار نے درست کہا تھا کہ ٹرمپ ناقابل اعتبار اور خطرناک حد تک غیر سنجیدہ ہے مگر ایک حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ایک بڑی طاقت کی ڈرائیونگ سیٹ پر ہے اس کے فیصلے دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے آنے سے امریکی استعمار کے مخالفین نے تو اپنی حکمت پر نظر ثانی کرنی ہی تھی امریکہ کے دوست بھی اس کو بھگت رہے ہیں۔ یورپ بڑی پریشانی میں ہے۔ ٹرمپ نے آتے ہی اسے بتا دیا کہ ہم نیٹو کا مزید پورا بوجھ نہیں اٹھائیں گے، اب یورپ کو عیاشی سے نکل کر اپنی حفاظت کے لیے خرچ کرنا پڑے گا۔

یورپ کے لیے ایک بڑی پریشانی امریکہ کا یورپ کو بائی پاس کرکے روس سے خود مذاکرات کرنے کی پالیسی اختیار کرنا ہے۔ آپ ٹرمپ پیوٹن ملاقات پر بی بی سی اور یورپی میڈیا کی کوریج دیکھیں تو آپ کو یوں لگے جیسے یہ ملاقات مکمل ناکام ہوگئی ہے اور ٹرمپ کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ روس نے ٹرمپ کے ساتھ دھوکہ کر دیا ہے اور اب امریکہ کو روس کے خلاف جنگ میں کھلے انداز میں شریک ہو جانا چاہیئے۔ ٹرمپ یورپ کو اس کی اوقات دکھا رہا ہے کہ تم کچھ نہیں ہو، تم نے ہماری ہاں میں ہاں ملانی ہے۔ ویسے ٹرمپ سے جب یورپ کی روس کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ انہیں کسی مناسب وقت پر بعد میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ابھی اس نے کہا کہ میں یوکرین کے صدر کو فون کروں گا اور ملاقات کے بعد فون بھی کر دیا۔

فرانس، جرمنی اور برطانیہ پریشان ہیں کہ اگر امریکہ نے روس سے صلح کر لی جو وہ کر لے گا کیونکہ اس کی نظر روس کی معدنیات پر ہے تو ہمارا کیا ہوگا؟ معروف دفاعی تجزیہ نگار کاشف رضا صاحب نے ٹرمپ پیوٹن ملاقات پر بہت زبردست لکھا ہے: ملاقات کے بعد پیوٹن نے امید ظاہر کی کہ دونوں ملک ایک بار پھر ماضی کی طرح تصادم کے بجائے مکالمہ اور تعاون کی راہ اپنائیں گے۔ صدر ٹرمپ کے نیٹو ممالک سے تعلقات مثالی نہیں، صدر پیوٹن امریکی صدر کے مزید قریب ہو کہ ان امریکہ و مغرب کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں۔ جس سے نہ صرف انہیں یوکرین پر اچھی ڈیل مل سکتی ہے بلکہ دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنا کر روسی مفادات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے صدر پیوٹن نے مختلف شعبہ جات میں تجارت کے وسیع مواقع کی طرف متوجہ کرتے ہوئے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کی بات کی۔

صدر پیوٹن نے نیٹو کی وجہ سے روسی سلامتی کو لاحق خطرات کا بھی ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ جنگ کی بنیادی وجوہات کو ختم کیا جائے گا، صدر پیوٹن نے کہا کہ امید ہے مغربی ممالک اس امن عمل کو ثبوتاژ نہیں کریں گے۔ انہوں نے یوکرین کو برادر ملک قرار دیتے ہوئے جنگ پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ اتفاق رائے کے بعد روسی سلامتی کے ساتھ یوکرین کی سلامتی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین نیٹو سمیت کسی سیکورٹی بلاک کا حصہ نہیں بنے گا اور بدلے میں روس یوکرین پر حملہ نہ کروانے کی امریکہ کو ضمانت فراہم کرے گا۔

یورپ کی تنہائی کی تشویش بالکل درست ہے اور یورپ خود کو بے بس محسوس کر رہا ہے اسی لیے یورپ اپنا دفاعی بجٹ بڑھا رہا ہے اور اس نے فوجیوں میں بھی اضافے کی کوششیں شروع کر دی ہیں مگر یورپ کے لوگ زیادہ ہی پر امن ہوگئے ہیں۔ جرمنی کو ڈیڑھ لاکھ فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے مگر کوئی بھی فوج میں بھرتی ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ یورپ پریشان نہ ہو اگر یورپ کو کوئی ایٹمی خطرہ پیش ہوا تو ہم یورپ کے لیے ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے۔

ابھی یورپ کو اقوام متحدہ میں ایک اور ناکامی ہونے والی ہے۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ ایران کو دھمکا رہے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسنیپ بیک میکانزم کو فعال کیا جائے گا۔ اسنیپ بیک میکانزم کیا ہے؟اسے سمجھنا ضروری ہے۔ یہ بین الاقوامی معاہدات بالخصوص ایران کے جوہری معاہدے (JCPOA) کے تناظر میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے۔ اس سے مراد ایسا خودکار اور فوری عمل ہے جس کے تحت اگر کسی فریق کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی ثابت ہو جائے تو اس پر سے ہٹائی گئی تمام بین الاقوامی پابندیاں دوبارہ لاگو ہو جاتی ہیں، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں دوبارہ ووٹنگ یا طویل سفارتی و قانونی عمل کی ضرورت پیش آئے۔ اس طرح یہ میکانزم ایک احتیاطی (preventive) ہتھیار کے طور پر بھی کام کرتا ہے، جو فریقین کو مسلسل معاہدے پر قائم رہنے پر مجبور کرتا ہے۔

ایران نیوکلئیر ڈیل (JCPOA) جو 2015ء میں ایران اور عالمی طاقتوں (P5+1) کے درمیان طے پائی۔ چین اور روس اس کے استعمال کی مخالفت کر رہے کیونکہ ان کے نزدیک یہ میکانزم سفارتکاری اور گفت و شنید کے بجائے دباؤ اور تصادم کی پالیسی کو فروغ دیتا ہے۔ یہ ایک غیر منصفانہ نظام ہے جس میں طاقت کے ذریعے ہی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتکار بھی پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں۔ چین نے کا اعلان بہت اہم ہے اس نے کہا ہے کہ ہم اس کی مخالفت کریں گے اس لیے اسے فعال کرنا اب آسان نہیں رہا لگ یوں رہا ہے کہ یہاں بھی ایک ناکامی اور بے بسی یورپ کی منتظر ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صدر پیوٹن نے کہا کہ پیوٹن نے یورپ کی یورپ کے یورپ کو کریں گے ٹرمپ کے کے ساتھ کے لیے ہے اور رہا ہے

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم