یوکرین جنگ: پوتن ٹرمپ ملاقات اور یو این کا تنازع کے منصفانہ حل پر زور
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 16 اگست 2025ء) یوکرین کے مسئلے پر امریکی اور روسی صدور کی آج ہونے والی ملاقات سے قبل اقوام متحدہ نے بات چیت کے ذریعے تنازع کے حل اور پائیدار جنگ بندی پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے سلامتی کونسل کے دو مستقل ارکان کے مابین اعلیٰ سطحی بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیام امن کے لیے کوششوں یا معاہدے کے لیے ادارے کے چارٹر کے اصولوں کو مدنظر رکھنا اور یوکرین کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام کرنا ضروری ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن کے مابین یہ ملاقات امریکہ کی ریاست الاسکا میں مقامی وقت کے مطابق دن 11 بجے ہونا ہے۔ یہ ریاست امریکہ کے مرکزی حصے سے ہٹ کر کینیڈا کے ساتھ واقع ہے۔
(جاری ہے)
منصفانہ امن کی ضرورتنیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے واضح کیا کہ یوکرین کی جنگ کے معاملے پر اقوام متحدہ کا موقف برقرار ہے کہ ابتدائی مرحلے میں فریقین کے مابین فوری، مکمل اور غیرمشروط جنگ بندی عمل میں لائی جائے جو منصفانہ، پائیدار اور جامع امن پر منتج ہو اور اس میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں میں یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت برقرار رہے۔
جنگ بندی یا کوئی امن معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور ادارے کی تمام متعلقہ قراردادوں کے تحت ہونا چاہیے۔دونوں صدور کی ملاقات میں یوکرین کے نمائندے کی عدم موجودگی کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پائیدار تصفیے کے لیے تنازع کے تمام فریقین کا مل بیٹھنا ضروری ہے۔ اقوام متحدہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اس ملاقات کے نتائج کا منتظر ہے۔
بھاری جانی نقصانامریکہ اور روس کے صدور کی ملاقات ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب یوکرین میں انسانی حالات بگڑتے جا رہے ہیں۔ امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، اس جنگ میں شہریوں کا بھاری نقصان ہو رہا ہے، گھر اور شہری تنصیبات تباہ ہو رہی ہیں اور مزید ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
گزشتہ سوموار اور بدھ کے درمیان ہی یوکرین کے علاقے دونیسک میں محاذ جنگ کے قریب 6,000 سے زیادہ لوگوں نے نقل مکانی کی۔
ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے نگران مشن نے رواں ہفتے بتایا تھا کہ گزشتہ ماہ جنگ میں انسانی نقصان تین سال کی ریکارڈ سطح پر پہنچا جب 286 شہری ہلاک اور 1,388 زخمی ہوئے۔فروری 2022 میں یوکرین پر روس کا حملہ شروع ہونے کے بعد ملک میں 726 بچوں سمیت کم از کم 13,883 شہری ہلاک اور 35,548 زخمی ہو چکے ہیں جن میں بچوں کی تعداد 2,234 ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اقوام متحدہ کے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔