ہیلری کلنٹن نے ٹرمپ کو نوبیل انعام دلانے کیلیے حیران شرط رکھ دی
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
امریکا کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے صدارتی انتخاب میں اپنے سابق حریف ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل انعام کی نامزدگی کے لیے ایک دلچسپ اعلان کیا ہے۔
ہیلری کلنٹن نے ایکس (ٹوئٹر) پر لکھا کہ اگر صدر ٹرمپ روس یوکرین جنگ کا اختتام اس شرط کے ساتھ کروا دیں کہ یوکرین کا کوئی علاقہ روس کے قبضے میں نہ جائے، تو میں انھیں نوبیل انعام کے لیے نامزد کروں گی۔
ہیلری کلنٹن کے بقول اس کا مطلب یہ ہوگا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن وقت کے ساتھ ساتھ یوکرینی علاقوں سے دستبردار ہو جائیں گے اور اگر ایسا ہوا تو یہ عالمی امن کے لیے ایک تاریخی اقدام ہوگا۔
سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی اہلیہ ہیلری کلنٹن نے یہ بات اس لیے کہی کیوں کہ روس اس وقت یوکرین کے تقریباً 18 فیصد علاقے پر قابض ہے اور انھیں اپنی ملکیت قرار دیتا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ روس یوکرین جنگ میں کچھ علاقائی یا جغرافیائی تبدیلیاں ممکن ہیں تاہم انھوں نے تفصیل نہیں بتائی تھی۔
ہیلری کلنٹن نے نوبیل انعام کی نامزدگی کا بیان اس لیے بھی دیا کیوں کہ پاک بھارت کشیدگی سمیت آرمینیا آذربائیجان، تھائی لینڈ کمبوڈیا تناؤ ختم کرانے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدوں کی وجہ سے ٹرمپ خود کو نوبیل انعام کا حقدار سمجھتے ہیں۔
کچھ ممالک اور ارکان اسمبلی کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی نوبیل انعام کے لیے نامزدگی کی تجویز دی جا چکی ہے۔
یاد رہے کہ نوبیل امن انعام ناروے کی کمیٹی دیتی ہے جب کہ اس کے لیے پانچ اراکین کا تقرر ناروے کی پارلیمنٹ کرتی ہے۔ دنیا بھر سے نوبیل انعام کے لیے ہر سال سیکڑوں امیدوار نامزد کیے جاتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہیلری کلنٹن نے نوبیل انعام کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔