سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس اور یوکرین کی جنگ کو ختم کروا لیں اور اس عمل میں یوکرین کو اپنی زمین روس کو نہ دینی پڑے، تو وہ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے پر تیار ہیں۔

ہیلری کلنٹن نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ اگر صدر ٹرمپ اس جنگ کو ختم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، یوکرین کے حقوق اور زمین کا تحفظ کرتے ہیں اور روسی صدر پیوٹن کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں، تو یہ ایک غیر معمولی کامیابی ہوگی، اور میں انہیں نوبل انعام کے لیے نامزد کروں گی۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ مچل گئے، ناروے سے نوبیل انعام کا تقاضا کر دیا

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے الاسکا میں ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔ ملاقات سے پہلے ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ بندی چاہتے ہیں۔

ہیلری کلنٹن نے مزید کہا کہ اگر ملاقات کامیاب نہیں ہوئی تو وہ فوراً واپس آ جائیں گے۔

خیال رہے کہ 2016 کے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کو شکست دی تھی۔ انتخابی مہم کے دوران کلنٹن نے ٹرمپ پر روسی صدر پیوٹن کی تعریف کرنے پر کڑی تنقید بھی کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

روس صدر ٹرمپ نوبیل انعام ہیلری کلنٹن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نوبیل انعام ہیلری کلنٹن ہیلری کلنٹن کلنٹن نے کے لیے

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں