فلمسٹار شبنم نے زندگی کی 78 بہاریں دیکھ لیں
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
تین عشروں تک پاکستان فلم انڈسٹری پر راج کرنے والی جھرنا باسک جسے دنیا ’’شبنم‘‘ کے نام سے جانتی ہے، آج اپنی 78ویں سالگرہ منا رہی ہیں۔
فلمسٹار شبنم کی پیدائش 17 اگست 1946کو ڈھاکا میں ہوئی۔ 1958 کی بنگالی فلم راج دھانیربوکے سے آغاز کرنے والی فنکارہ نہ صرف اپنی جاندار اداکاری بلکہ مکالموں کی سحر انگیز ادائیگی سے بھی دلوں پر نقش چھوڑتی گئیں۔
اداکارہ شبنم نے پاکستان کی پہلی اردو فلم ’چندا‘ سے جو لوہا منوایا، وہ پھر کبھی زنگ آلود نہ ہوا۔ اداکارہ شبنم نے آئینہ، بندش، شمع و پروانہ، درشن، عندلیب اور دل لگی جیسی شاہکار تخلیقات میں اداکاری کے جوہر دکھا کر اپنے لاکھوں پرستاروں کے دلوں پر خوب راج کیا۔
شبنم کی جوڑی محمد علی، وحید مراد، شاہد جیسے نامور اداکاروں کے ساتھ خوب بنی، مگر فلم بینوں کے دلوں پر سب سے گہری چھاپ ان کی اور ندیم کی جوڑی نے چھوڑی۔
نامور اداکارہ کا فن اتنا تابناک ہوا کہ انہیں 13 بار نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، بعد ازاں 2019 میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیا گیا۔
فلمسٹار شبنم محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ایک عہد ہیں، اور وہ روشنی ہیں جس نے پاکستانی سینما کو جِلا بخشی اور جو آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور